قومی اسمبلی اجلاس، سات آرڈیننس میں توسیع کی قرار داد منظور، سنی اتحاد کونسل نے کاغذات پھاڑ دیے

اسلام آباد (انتخاب نیوز) قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا ،اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سات آرڈیننس ایوان میں پیش کئے جس پر سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ایوان میں احتجاج کیا، اپوزیشن کے ہنگامے کے دوران آرڈیننس میں توسیع کی قرار داد منظور کی گئی۔ سنی اتحاد کونسل کے عمر ایوب نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم آرڈیننسز کو مسترد کرتے ہیں، ہم اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں، یہاں موجود کتنے لوگوں نے یہ آرڈیننس پڑھے ہیں، آرڈیننس میں توسیع کی قرارداد کو مسترد کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ آرڈیننس پاکستان کو بیجنے کیلئے ہیں، آرڈیننس کیا ہے یہ تو دیکھیں، مجھے بتا دیں یہ ہے کیا حلف دے کر بتائیں اس ایوان میں کتنے لوگوں نے اسے پڑھاہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ ن لیگ والوں کو خود بھی نہیں پتا کہ یہ کیا ہے، یہ پاکستان کو بیچنے کی بات ہو رہی ہے ، ہم رکارڈ پر لا رہے ہیں۔علاوہ ازیں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ملک کیلئے کھڑے ہوا کریں ، ہر وقت قیدی کے پیچھے کھڑے نہ ہوا کریں، غزہ میں بمباری جاری ہے، وہاں لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، ہم تمام اتحادیوں کی رائے لیں گے۔خورشید شاہ نے اپوزیشن کے ساتھ اتفاق کیا اور کہا کہ پچھلے تین ادوار میں سب سے زیادہ آرڈیننس کس کے دور میں آئے ، اپوزیشن سے اتفاق کرتا ہوں کہ آرڈیننس سے حکومت نہیں چلتی۔ سنی اتحاد کونسل ارکان کی جانب سے کاغذات پھاڑ کر پھینک دیے گئے جس پر اسپیکر برہم ہو گئے، اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ آپ پوائنٹ آف آرڈر پر تقریر کر رہے ہیں، اگر اب ایسا کیا تو انضباطی کارروائی پر مجبور ہوں گا۔بعد ازاں قومی اسمبلی میں غزہ کے حوالے سے پیش کی گئی قرار داد بھی منظور کر لی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں