پی پی ایچ آئی بلوچستان کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، اسٹاف یونین

پنجگور(یو این اے )محکمہ صحت بلوچستان کے ذیلی ادارہ پی پی ایچ آئی بلوچستان کو 2007 میں وجود میں لایا گیا تھا پی پی ایچ آئی بلوچستان نجکاری کے طور پر محکمہ صحت کے انڈر صوبے کے تمام بنیادی مراکز صحت کی انتظامات کو سنبھال رہے ہیں اس ادارے کے ملازمین 2007 سے کنٹریکٹ پر اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے آرہے ہیں 17 سال کی سروس مکمل کرنے والے ان ملازمین کی تنخواہیں اس مہنگائی کے دور میں اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں ان 17 سالوں میں ان کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا ہے پی پی ایچ آئی بلوچستان میں 2 کیٹگری کے ملازمین کام کررہے ہیں ایک منیجمنٹ یعنی دفتری امور سنبھالنے والے اسٹاف اور ایک بی ایچ یو اسٹاف یعنی پیرامیڈیکل اسٹاف اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں محکمہ صحت کے دفتری اسٹاف اور پیرامیڈیکل اسٹاف کا پی پی ایچ آئی کے دفتری اسٹاف اور پیرامیڈیکل اسٹاف تنخواہوں کا موازنہ کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق ہے 2007 محکمہ صحت میں بھرتی ہونے والے کلرک کا تنخواہ اس وقت 85 ہزار ہے اسی طرح محکمہ صحت میں بھرتی ہونے والے میڈیکل ٹکنیکشن کی تنخواہ اس وقت 75 ہزار ہے جبکہ دوسری طرف 2007 میں پی پی ایچ آئی میں بھرتی ہونے والے کلرک 38 ہزار اور میڈیکل ٹکنیکشن اس وقت 28 ہزار تنخواہ لے رہے ہیں پی پی ایچ آئی کے ملازمین کو کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ کرکے پچھلے 17 سالوں سے ان کی حق تلفی ہورہی ہے گورنمنٹ بلوچستان اگر چاہے آسانی سے ان ملازمین کو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ضم کرسکتا ہے ویسے ہی گورنمنٹ آف بلوچستان ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے بطورِ ذیلی ادارہ پی پی ایچ آئی کو بجٹ دے رہے ہیں اب ان ملازمین کے ساتھ یہ ظلم کب تک چلے گی ان میں سے اکثریت اپنی عمر کے بالائی حد کو پار کرچکے ہیں یعنی اب اوریج ہوگئے ہیں اب دوسری ڈپارٹمنٹ میں درخواست دینے کے اہل نہیں ہیں مہنگائی کے اس دور میں ان کی تنخواہیں بہت کم ہیں پی پی ایچ آئی بلوچستان اگر کمپنی ہے تو کمپنی اپنی ملازمین کو بہت سارے مراحات دیتے ہیں نئے چیف جسٹس آف بلوچستان آئی کورٹ جناب جسٹس محمد ہاشم کاکڑ صاحب سے پی پی ایچ آئی بلوچستان کے غریب ملازمین ساتھ ہونے والے ناانصافیوں پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیںاور خاص کر پی پی ایچ آی BHUsغریب ملازمین دور دراز علاقوں میں بہت بہت کم تنخواہ پے ڈیوٹیاں دی رہی ہیں اور پی پی ایچ آی ہیڈ آفس بورڈمیٹینگ میں تنخواہ بڑھانے پر فیصلہ ہوا ابھی تک جمع نہیں کیا۔پی پی ایچ ای سٹاف کا مطالبہ تنخواہ بڑھاے اورکا عید بونس دیا جاے

اپنا تبصرہ بھیجیں