ماہی گیری سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر، عید کی خوشیاں ماند پڑ گئیں

گوادر (این این آئی) پسنی میںماہیگیری سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر،بچوں کے عید کی خوشیاں پھیکی پڑھ گئے،پسنی میں رواں ماہ سمندری حیات کی نسل کشی میں تیزی آگئی ،لوحر سمیت دیگر مچھلیوں کی شکار میں ریکارڈ کمی ،ماہیگیر سمیت ساحل سمندر پر کام کرنے والے ہزاروں مزدور نان شبینہ کا محتاج، ، صوبائی و وفاقی ادارے سمندری حیات کی نسل کشی میں مصروف عناصر کے سامنے بے بس۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر پسنی جہاں ڈیڑھ لاکھ سے نفوس آبادی کا واحد ذریعہ معاش ماہیگیری ہے میں رواں ماہ سمندری حیات کی نسل کشی میں مصروف غیر قانونی نیٹ استعمال کرنے والے ٹرالرز کی وجہ سے ماہ صیام میں پسنی کے سمندری حدود میں مچھلیوں کی شکار میں نمایاں کمی آچکی ہے، پسنی کے سمندری حدود میں رواں ماہ لوحر سمیت دیگر مچھلیوں کی شکار میں ریکارڈ کمی کی وجہ سے ماہیگیر سمیت ساحل سمندر پر کام کرنے والے رکشہ، سوزوکی و دیگر ہزاروں مزدور متاثر ہوئے جس سے وہ نان شبینہ کا محتاج ہوکر رہ گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق رواں ماہ میں سمندری حیات کی بے دریغ نسل کشی کی وجہ سے ہزاروں خاندان ماہ صیام میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے ہر مجبور ہوگئے علاوہ ازیں ہزاروں ماییگیر وں سمیت سینکڑوں مزدوروں کے بخاندان و چوں کی عیدالفطر کی خوشیاں پھیکے پڑنے کا اندیشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں