بی بی حمیرہ کے ورثا نے من گھڑت، بے بنیاد ایف آئی آر درج کروائی، سید احسان شاہ دوپاسی

کوئٹہ (آن لائن) سید احسان شادوپاسی نے کہا ہے کہ یکم اپریل 2024 بمطابق رمضان المبارک کی رات اپنے گھر میں موجود تھا تقریباً رات کے تین بجے مجھے میرے بیٹے شاکر شاہ نے آ کر آواز دی کہ بابا جان میری زوجہ بی بی حمیرہ کی طبعیت خراب ہوگئی جس کی آواز پر ہم سب گھر والے بی بی حمیرہ کے پاس پہنچے جہاں حالت بہت ناساز تھی، ایمرجنسی میں قریبی ہسپتال ڈھاڈر ڈسٹرک ہسپتال لے گئے اور اس دوران ہم نے بی بی حمیرہ کے گھر والوں کو کال کے ذریعے اطلاع دی جب ہم ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈھاڈر پہنچے تو ڈاکٹر کی چیک اپ کے بعد بی بی حمیرہ کی طبیعت خراب ہو چکی تھی ڈاکٹر نے ایمرجنسی میں ہمیں ریفر کیا سی ایم ایچ سبی ریفر کی تصدیقی سرٹیفکٹ موجود ھے ہم سی ایم ایچ پہنچے ہمیں سی ایم ایچ پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے بی بی حمیرہ کی موت کی تصدیق کر دی جس پر ہم نے بی بی کے گھر والوں کو اطلاع دی وفات کی اطلاع پر ہم نے ورثا کو اپنے گھردوپاسی ہائ¶ تشریف لانے کو کہا جب ورثا ہمارے گھر تشریف لاچکے تو انہوں نے اصرار کیا کہ میت ہمیں تدفین کے لیے لے جانے دی جائے لیکن ہم نے انہیں سمجھایا کہ ہمارے آپ کے رسم رواج کے مطابق یہ ہوتا ہے کہ جس گھر میں بچی دی جاتی اس گھر میں اسکے گھر والوں کے ذمہ تدفین ہوتی ہے یعنی شوہر اور سسرال والے ہی دفن کرتے ہیں لیکن ورثا نے بہت منت سماجت کی کہ میت ہمیں تدفین کے لیے لے جانے دیں، اپنے سادات کے معززین معتبرین نے کہا ہم نے میت ورثا کے حوالے کی اور ہم خود بھی تدفین کے لیے مستونگ جانے کی تیاری میں تھے جب یہ میت نکال کر تھانہ کے آگے دھرنا لگا کر بیٹھے اور جھوٹی من گھڑت بے بنیاد ایف آئی آر کروانے پر بضد ہوگئے انہی کے علاقہ معززین نے ورثا کو روکا لیکن ورثا نے کسی کی نہ مانی، یہ بھی بتاتا چلوں کہ پوسٹ مارٹم کے لیئے ڈسٹرک ہسپتال ڈھاڈر اور سبی یا سی ایم ایچ کو چھوڑ کر کوئٹہ لے جایا گیا اگر کوئٹہ سول ہسپتال لے جایا جاتا پھر بھی ہمیں سرکاری ہسپتال پر یقین آتا ورثا نے اپنے ایک جاننے والے کرپٹ ڈاکٹر سے پوسٹ مارٹم رپورٹ بنوائی ہم دعویٰ سے کہتے ہیں ڈاکٹر نے رشوت لی ہے من گھڑت بے بنیاد پوسٹ مارٹم جاری کی ہے۔ یہ بھی آپ کے علم میں ہوگا پوسٹ مارٹم لیڈیز کا لیڈیز ڈاکٹر ہی کرتی ہے کبھی آج تک نہ شریعت میں نہ قانون میں ہے کہ لیڈیز کا پوسٹ مارٹم مرد کرے لیکن بی بی حمیرہ کا پوسٹ مارٹم ایک کرپٹ راشی رشوت خور مرد ڈاکٹر نے کیا جس کی رپورٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں، جھوٹی من گھڑت پوسٹ مارٹم کے اوپر رشوت لے کر ہم پر بے بنیاد ایف آئی آر کی گئی ہم بلوچستان کے معزز گھرانے معزز شخصیات سے تعلق رکھتے ہیں، بلوچستان میں ہم نے امن و امان میں اپنا کردار ادا کیا ہے قبائلی جنگ ہو یا کہیں کو مسئلہ ہم نے ہر وقت خیر خواہی کی ہے۔ہم حکومت بلوچستان، آئی جی، عدالت عظمیٰ سے درخواست کرتے ہیں ہمارے ساتھ انصاف کرکے بے بنیاد ایف آئی آر ختم کی جائے اور پوسٹ مارٹم کے لیے سینئر تجربہ کار ڈاکٹروں پر بورڈ تشکیل دیا جائے اور سچائی کو سامنے لایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں