بلوچستان میں انسرجنسی پر قوم تقسیم ہے، ایک مائنڈ سیٹ فورسز پر حملے جائز قرار دے رہا ہے، سرفراز بگٹی
کوئٹہ (یو این اے) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہاہے کہ نوشکی میں بلوچ نے پنجابی کو نہیں مارا بلکہ دہشتگردوں نے پاکستانیوں کو مارا۔ بلوچستان میں دہشتگردی پر پوری قوم تقسیم ہے، اچھے و برے طالبان کی طرح بلوچستان میں بھی اچھے و برے دہشتگردوں کی سوچ موجود ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں بلوچستان میں تشدد کو الگ کردیا گیا ہے، جو پوری پاکستانی قوم کیلئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، ہمارے خلاف تین محاذوں بندوق، بیانیہ اور پرو پاکستانی سیاسی و قبائلی لیڈر شپ کو ختم کرنے پر کام چل رہا ہے۔ بندوق کا استعمال، پارلیمان، سڑکوں یا جلسوں میں ریاست کیخلاف ماحول بنانے و پرو پاکستانی لیڈر شپ کو متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ عوام کا تحفظ ہمارا فرض ہے، نوشکی میں قتل ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی کوئی قوم، کوئی مذہب نہیں ہوتا ،دہشتگرد دہشتگرد ہے اور ان کانشانہ پاکستان اور اس کے عوام ہیں۔ دہشتگردی بلوچستان میں ہو یا خیبر پختونخوا میں بدقسمتی ہماری ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی پر پوری قوم تقسیم ہے، ہماری سب سے اہم دستاویز آئین پاکستان ہے اور اس کے بعد نیشنل ایکشن پلان ودیگر اہم دستاویزات ہیں، ہم نے نیشنل ایکشن پلان میں بلوچستان میں تشدد کو الگ کردیا کہ یہ کسی اور قسم کا وائلنس ہے۔ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے کے اداریہ میں لکھا گیا کہ فوجی، ایف سی، لیویز کو مارانا جائز ہے، یہ مائنڈ سیٹ رہا تو ہم مسئلے کو کیسے ایڈریس کریں گے۔ یہ کہنا کہ بلوچستان میں سب ٹھیک ہے، بلوچستان میں سب ٹھیک نہیں ہے، بلوچستان میں انسرجنسی ہے اور اس انسرجنسی میں تین محاذ ہمارے خلاف کھولے گئے ہیں، ایک بندوق کبھی یہاں کبھی وہاں اسٹرائیک کرتا ہے، کبھی کامیاب تو کبھی ناکام، دوسرا محاذ بیانیہ کاہے، کوئی قبول کرے کوئی نہ کرے، بشیر زیب مجید بریگیڈ کا سربراہ ہے وہ تو پریس کانفرنس نہیں کرسکتا، نہ ہی اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرسکتا ہے، وہ تو وائلنٹ ہے، اس کو بیانیہ چاہےے، پاکستان کے پارلیمنٹ میں سڑکوں پر، جلسوں پر تاکہ اس کیلئے ان کے لئے پروپیگنڈہ کرے اور وہ انسرجنٹس کی بھرتیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک شخص دہشتگرد جو مارا جاتاہے کنفرم نہیں ہوتا یا پھر ایسے لوگ مارے جاتے ہیں جس طرح تربت میں بالاچ بلوچ مارا گیا کیا کہرام مچایاگیا پورے پاکستان میں 9لوگ مارے گئے کیا کسی طرح کا کہرام مچایاگیا ،14پاکستانی فوج کے جوان گوادر ہائی پر زندہ جلا دئےے گئے اس پر کسی جماعت یا قوم پرست نے ایک احتجاج کیا قومی اسمبلی میں بات کی صوبائی اسمبلی میں بات کی ،یہ وہ آوازیں ہیں ریاست کو نشانہ بناناہوں ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا ہوں لاپتہ افراد کامسئلہ ہو وہاں آواز بڑی تیز ہوجاتی ہے یہاں آپ کی آواز خاموش یا تو آپ تشدد کی مذمت کرتے تشدد کی اجازت تو ریاست کے پاس ہیں ہم کہتے ہیں کہ ایک طرف کے واقعات پر ایک ماحول پیدا کرکے ریاست کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے ،انہوں نے کہاکہ پنجاب ایک ارب روپے خرچ کرکے بلوچستان کے بچوں کو پڑھاتاہے مجھے تو خوش ہونا چاہےے لیکن میرا بچہ وہاں جاکر جو نوجوان ہے ان پر اتنا کام کیاگیاہے کہ وہاں پڑھنے کے باوجود وہاں کے لوگوں سے نفرت کرتاہے ،وہاں بلوچ کونسل بن جاتاہے وہاں پر پشتون کونسل بن جاتاہے ،دیکھا دیکھی ہم تقسیم میں چلے جاتے ہیں جو پاکستان کی بڑی فالٹ لائن ہے اور تیسرا محاذ پاکستان کی آواز بننے والے سیاسی اورقبائلی لیڈرشپ کو ختم کیاجائے ،ان کواتنامتازعہ کیاجائے کہ ان کی حیثیت صفر ہوجائے ،اس طرح کا ماحول ہیں کہ میرے جیسے لوگوں کی سیاسی کیئریئر ختم ہورہی ہے ہمارا بیانیہ مشہور نہیں ہے ،انہوں نے کہاکہ گراﺅنڈ پر کہناکہ ریاست کمزور ہے تو ریاست بلکل کمزور نہیں ہے بلوچستان میں علیحدگی پسند یا دہشتگرد کسی صورت ریاست کو کمزور نہیں کرسکتا، حقیقت سب کو پتہ ہوناچاہےے ہم طاقت ور ہیں ۔


