عنایت اللہ، عبدالفتح بنگلزئی کو بازیاب کیا جائے، نصر اللہ بلوچ
کوئٹہ (آن لائن) وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ ، ماما قدیر نے کہا ہے کہ عنایت اللہ بنگلزئی، عبدالفتح بنگلزئی کو 10 سال بعد بھی بازیاب کراکر منظر عام پر نہیں لایا گیا ان کی بازیابی کیلئے عید کے بعد کوئٹہ کراچی شاہراہ کو مستونگ کے مقام پر بند کرکے دھرنا دیکر بند کردیں اور بازیابی تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو عنایت اللہ بنگلزئی اور عبدالفتح بنگلزئی کے اہلخانہ کے ہمراہ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 24مئی 2014 کو عنایت اللہ بنگلزئی، عبدالفتح بنگلزئی اور بشام کو مستونگ کے علاقے اسپیلنجی سے حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے اور دوسرے دن 24 مئی 2014 کو فورسز کی طرف سے میڈیا پر خبر نشر ہوئی کہ اسپلنجی میں دوران آپریشن عنایت اللہ بنگلزئی، عبدالفتح بنگلزئی اور بشام کو حراست میں لیاگیا ہے بعد میں بشام کو چھوڑ دیا لیکن عنایت اللہ اور عبدالفتح تاحال سیکورٹی اداروں کے حراست میں ہے ان کی جبری گمشدگی کو 10سال کا عرصہ بیت گیا۔ لاپتہ افراد کے کمیشن میں کیس چلتا رہا کمیشن کے سامنے عنایت اللہ اور عبدالفتح کی جبری گمشدگی کی ناقابل ترید شواہد پیش ہوئے کمیشن نے حکم دیا کہ ان کو جبری طور لاپتہ کیا گیا ہے انہیں کمیشن کے سامنے پیش کیاجائے۔ اس کے باوجود انہیں پیش نہیں کیا گیاجس کی وجہ سے خاندان شدید ذہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہیں اور ان کے والدین اپنے بیٹوں کی جدائی کے غم سے رحلت کرگئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی اور پر امن طریقے سے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ان پر کوئی جرم ثابت ہوا ہے تو انہیں منظر عام پر لاکر عدالتوں کے ذریعے سزا دی جائے اگربے گناہ ہیں تو انہیں رہا کیا جائے۔ ملکی قوانین کے مطابق ان کی رہائی کے لئے اداروں کے دروازے کھٹکھٹارہے ہیں لیکن انصاف نہیں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پیاروں کو بازیاب کیا جائے بصورت دیگر عید کے بعد کوئٹہ کراچی شاہراہ کو مستونگ کے مقام بند کرکے بازیابی تک دھرنا دیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔


