کراچی کوئٹہ چمن روڈ سے متعلق کیس کی سماعت، این ایچ اے کو 29 ارب روپے جاری

کوئٹہ (یو این اے) عدالت عالیہ بلوچستان کے جج عبداللہ بلوچ اور جسٹس روزی خان بڑیچ پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے N25 کراچی، خضدار، کوئٹہ، چمن روڈ کے مقدمہ کی سماعت کی، عدالت عالیہ کے احکامات کی روشنی میں پلاننگ ڈویژن، پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے N25 کراچی خضدار، کوئٹہ اور چمن روڈ کی دو رویا تعمیر کرنے کے سلسلے میں این ایچ اے بلوچستان کو 29 ارب 28 کروڈ روپے جاری کردیے۔ اس بابت منسٹری آف پلاننگ ڈویژن کے نمائندے عمران علی منسٹری آف پلاننگ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے فنڈ سے متعلق جاری کردہ لیٹر محررہ 23 مئی 2024 معزز عدالت کے سامنے پیش کیا اور مذکورہ بالا فنڈ کی تصدیق ممبر این ایچ اے بلوچستان ممبر ویسٹ بشارت حسین سے کروائی جنہوں نے عدالت عالیہ کو مزید بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مطلوبہ فنڈز سے لینڈ ایکوزیشن کا مسئلہ کمشنر کوئٹہ ڈویژن اور کمشنر قلات ڈویژن کے ساتھ اٹھایا گیا ہے اور یہ عمل تقریباً دو ہفتے میں مکمل ہو جائے گا اور متعلقہ تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ این ایچ اے لینڈ ایکوزیشن کے مرحلے میں تعاون کریں اور اگلی تاریخ سماعت پر اس بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروائیں۔ ممبر این ایچ اے بلوچستان نے مزید آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ وہ N25 کراچی، خضدار، کوئٹہ، چمن کے ٹیکنیکل اور فنانشل بڈز30 جون 2024 سے پہلے پہلے مکمل کر کے ورک آرڈر جاری کریں گے اور اس بابت چیئرمین این ایچ اے نے N25 تعمیر کے سلسلے میں اعلیٰ سطح پر اسلام آباد میں ایک فوکل پرسن بھی تعینات کر دیا ہے جو کہ ہنگامی بنیاد پر اس روڈ کی تعمیر کریں گے۔ اس موقع پر جنرل منیجر ویسٹ سید اشرف علی شاہ بھی موجود تھے جنہوں نے عدالت کو آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ سوراب، پنجگور اور گوادر سی پیک روڈ کی مرمت کا کام شروع ہوچکا ہے جو کہ جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ اس موقع پر جنرل منیجر نور الحسن نے عدالت کو آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ حب ندی پل کی تعمیر کا کام آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے اور 30 جون 2024 سے پہلے پہلے مکمل کردیا جائے گا۔ عدالت عالیہ ممبر انفرا اسٹرکچر پلاننگ اینڈ ڈویژن کو ہدایات جاری کیں کہ آنے والے مالی سال میں N25 اور بلوچستان کی دیگر شاہراہوں کے فنڈز کی تفصیلات سے متعلق عدالت کو آگاہ کیا جائے۔ نمائندہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن نے زیارت کراس۔ سنجاوی روڈ کی بابت رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ5 مارچ 2018 کو ایکنک (ECNIC)نے ایک ارب روپے سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ حکومت بلوچستان کو جاری کئے تھے مگر تاحال یہ رقم استعمال نہیں کی گئی۔ جس پر معزز عدالت نے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ڈپارٹمنٹ اور پراجیکٹ ڈائریکٹر زیارت کراس ۔ سنجاوی روڈ کو سختی سے احکامات جاری کئے کہ اگلے تاریخ پر بذات خود پیش ہوں اور مذکورہ بالا فنڈز کو استعمال میں نہ لانے کی بابت عدالت عالیہ میں وضاحت پیش کریں اور اس بابت تفصیلی رپورٹ بھی پیش کریں۔اِس موقع پر خاران یک مچ ، خاران بسیمہ روڈ کے حوالے سے ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران این ایچ اے بلوچستان نے مزید مہلت کی درخواست کی تاکہ معزز عدالت کو خاران بسیمہ پورشن کے حوالے سے درکار فنڈز کس سٹیج پر ہیں اِس بارے میں تفصیلی رپورٹ عدالت پیش کی جائے۔عدالت عالیہ نے فریقین کو اپنی اپنی پراگریس رپورٹ جمع کروانے کے لئے آئندہ تاریخ سماعت 27 جون 2024 تک مہلت دے دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں