بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام ملک الشعر امیر گل نصیر کی یاد میں دیوان
کوئٹہ(پ ر)بلوچ سٹوڈنٹس کونسل، منہاج یونیورسٹی لاہور، کے زیر اہتمام ملک الشعرا میر گل خان نصیر کی یاد میں دیوان منعقدہوا، مقررین کا کہنا تھا کہ یہ تقریب ایک خاص مقصد کے لئے ہے، جو کہ ہمیں ہمارے فقید، شاعرِ وطن، میر گل خان نصیر، کی عظیم شخصیت کی یاد میں اکٹھا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔میر گل خان نصیر ایک معروف بلوچ شاعر اور سیاستدان تھے جو اپنی شاعری میں بلوچ قومیت کے حقوق اور ان کی معاشرتی حالات پر اظہار کرتے رہے۔ ان کی شاعری میں عظیم حسن و تسلسل ہے جو معاشرتی، سیاسی، اور ثقافتی مسائل کو روشنی میں لاتی ہے۔ آج ان کی یاد میں ایک دیوان منعقد ہوا تاکہ ان کے عظیم کردار اور خدمات کو دوبارہ یاد کیا جا سکے اور ان کی روشنی میں ہمارے فکری، ثقافتی، اور سماجی فروغ کے راہ برگزیدہ ہوں۔اس تقریب میں طلباءنے بھرپور انداز سے حصہ لیا۔ موجودہ موقع پر پینل ڈسکشن بھی منعقد ہوا، جسے مجیب بلوچ نے موڈریٹ کیا۔ سفیان بلوچ اور مشتاق بلوچ نے بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کی سیاسی ذمہ داریوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔دیوان کے دوران بلوچ سٹوڈنٹس کونسل لائبریری کا افتتاح بھی ہوا، دیوان میں بلوچ طلباءنے شاعری پیش کی ، اور ثقافتی رقص بھی کیا۔ میر گل خان نصیر کے دیار سے آئے مہمان، استاد عالم مسرور نے گیتوں کی محفل کو رنگین بنایا۔دیوان میں نہ صرف بلوچ ثقافت، بلکہ ان کے فراہم کردہ ایک خصوصی موقع کی خوبصورتی کو بیان کیا۔ اس موقعے نے طلباءکو تعلیمی اور فرہنگی سیاق و سباق سے واقف کرایا اور انہیں اپنی قومی وراثت کے احساس کو مزید مضبوط کیا۔آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، منہاج یونیورسٹی لاہور، چیئرمین فہاد جان بلوچ نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا اور کیا جو اس تقریب میں شریک تھے۔


