میں قتل ہوا تو ذمہ دار زرداری،،نبیل گبول،الطاف اور رحمن ملک ہوں گے،حبیب جان بلوچ

کراچی:کراچی سٹی الائنس کے سربراہ حبیب جان بلوچ نے کہا ہے کہ اگرمیں قتل کردیاگیا توآصف زرداری، نبیل گبول، الطاف حسین اور رحمان ملک قتل کے ذمہ دار ہوں گے۔ اگر ریاستی ادارے اپنا کردار پوری طرح ادا کرتے تو کسی حبیب جان کو، کسی عزیر بلوچ یا صولت مرزا کو نان پولیٹیکل سٹیک ہولڈرز کے پاس نہ جانا پڑتا۔ جب ہر رنگ و نسل کا بندہ بوری میں بند کر کے مار دیا جائے ہر طرف قتل عام ہو تو پھر پولیٹیکل ورکر امن کمیٹی کی طرف ہی جا سکتا تھا۔ ذوالفقار مرزا نے کہا تھا کہ امن کمیٹی کے بچے ہمارے بچے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی ہمارا ذمہ نہ اٹھاتی تو ہم یقینا بلوچستان کے ساتھ مل گئے ہوتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔حبیب جان بلوچ نے کہا کہ جن کے دوست مضبوط ہوں انہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مجھے فخر ہے کہ لارڈ نذیر احمد، بیرسٹر صبغت اللہ قادری کیو سی، لارڈ قربان اور سوشل میڈیا ٹیم میری دوست ہے۔ اگر میں قتل ہو جاؤں یا کسی ایکسیڈنٹ میں مارا جاؤں تو میرے قتل کے ذمہ آصف زرداری، نبیل گبول، الطاف حسین اور رحمان ملک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی۔ اگر ریاستی ادارے اپنا کردار پوری طرح ادا کرتے تو کسی حبیب جان کو، کسی عزیر بلوچ یا صولت مرزا کو نان پولیٹیکل سٹیک ہولڈرز کے پاس نہ جانا پڑتا۔ جب ہر رنگ و نسل کا بندہ بوری میں بند کر کے مار دیا جائے ہر طرف قتل عام ہو تو پھر پولیٹیکل ورکر امن کمیٹی کی طرف ہی جا سکتا تھا۔ظفر بلوچ کے قتل کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اس وقت انگلینڈ میں تھا اور ظفر وہاں بہت مثبت کردار ادا کر رہا تھا یعنی ظفر دشمنوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن چکا تھا اس لیے اسے راستے سے ہٹا دیا گیا۔ یہ پاکستان و توڑنے کی ایک بڑی سازش تھی اور ظفر بلوچ اسی سازش کا شکار ہوا۔لیاری میں پولیس آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت الطاف حسین کراچی پر پوری طرح قابض تھا اور اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ لیاری تھا۔ محمد انوار جو کہ متحدہ کے بانی کا خاص آدمی تھا اس نے بھارت سے را سے پیسے لینے کا اعتراف کیا۔ 1992 سے 2015 تک یہ کام ہوا اس وقت مقتدر ادارے کہاں سو رہے تھے یہ تو اچھا ہوا اس وقت لیاری کے لوگ جاگ گئے۔ ہم نے سوچا اگر سویت یونین کی راہ میں طالبان رکاوٹ ڈال سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں امن کمیٹی بنا کر متحدہ کا رستہ روک سکتے۔ جنرل راحیل شریف کا اللہ بھلا کرے کہ اس نے الطاف حسین کو لگام ڈال دی۔جہاں تک چوہدری اسلم کی بات ہے تو 1992 کے آپریشن کے بعد تمام افسران شہید کر دیے گے سوائے راو انوار اور چوہدری اسلم کے۔ چوہدری اسلم کے بارے میں سنا تھا کہ اس نے مکہ میں صوبائی وزیر کے ہاتھ بیعت کر کے کہا کہ آج کے بعد میں آپ کا بندہ ہوں اور اس کے لیے لندن سے اپروول آیا تھا۔ اس واقعے کے بعد چوہدری اسلم نے پرفارمنس دکھائی۔ راو انوار پر زرداری صاحب کی چھتری آ گئی۔ایک اور سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ میں نے اور ظفر بلوچ نے ایک لائن ڈرا کی تھی کہ لیاری کے باہر سے کوئی بندہ نہیں ہوگا۔ میں چونکہ باہر کا تھا اس لیے میں نے الیکشن نہیں لڑا۔ اس لیے اس لیے ثانیہ ناز اور جاوید ناگوری اور شاہجہاں کا انتخاب کیا کیوں کہ ایک تو وہ لیاری کے تھے اور غریب پس منظر کے تھے۔ میں نے سینٹ کے لیے بھی لیاری سے ہی میر سفارش پر الماس پروین کو ٹکٹ دیا گیا حالانکہ عزیر بلوچ اور ظفر بلوچ کی خواہش تھی کہ یہ ٹکٹ میں لوں۔حبیب جان بلوچ نے کہا کہ عبداللہ مراد کی چھ مارچ 2011 کو برسی تھی اور اسی مارچ میں متحدہ کی جانب سے قتل و غارت بڑھتی چلی گئی میں نے وہاں ایک جلسے سے خطاب کیا جس میں ذوالفقار مرزا اورقائم علی شاہ بھی موجود تھے تو میں نے اس جلسے میں کہا کہ اگر پیپلز پارٹی ہمارا ذمہ نہیں لیتی تو ہم بلوچستان کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور ذوالفقار مرزا نے اس کے جواب میں جذباتی ہو کر کہا کہ امن کمیٹی کے بچے ہمارے بچے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی ہمارا ذمہ نہ اٹھاتی تو ہم یقینا بلوچستان کے ساتھ مل گئے ہوتے۔لیاری میں بی ایل اے اور پیپلز امن کمیٹی کے نام کے نعروں کے حوالے سے حبیب جا ن بلوچ نے کہا کہ رحمان ملک کے حکم پر اس وقت کچھ ایجنسیاں دیواروں پر وہ نعرے لکھا کرتی تھیں۔ اب یہ نہیں پتا کہ یہ آئیڈیا الطاف حسین کا تھا کہ رحمان ملک کا۔ لیاری کے لوگوں نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ یہ سب الطاف حسین کی ایما پر کیا گیا۔حبیب جان نے عزیر بلوچ کے ایران سے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ جہاں تک عزیر بلوچ کے پاس ایرانی پاسپورٹ کی بات ہے تو وہ آدھے بلوچستان کے پاس موجود ہے۔ مختلف لوگوں کے پاس ڈبل پاسپورٹ ہوتے ہیں۔ عزیر بلوچ انعام کی خاطر کیا جاسوسی کر سکتا ہے؟الطاف حسین تو بھارت کے لیے کرسکتا تھا اس کے پاس تو سیاسی سیٹیں تھیں۔ ہاں عزیر بلوچ جاسوسی تب کرتا جب اس کے ایوان صدر تک اپروچ ہوتی۔ وہ کوئی مشیر یا وزیر ہوتا اور حساس معلومت تک اس کی رسائی ہوتی۔ اگر کوئی اپنی ناکامیاں اور نا اہلیاں چھپانے کے لیے کسی کا نام استعمال کرے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ اگر عزیر بلوچ غدار ہوتا تو میں آج زندہ نہ ہوتا۔ اور اگر وہ غدار ہے تو سب سے پہلے اس کی ماں اس کو گولی مارتی پھر میں مارتا۔ وطن کا غدار تو قابل معافی ہی نہیں۔نہوں نے الزام عائد کیا کہ میرے بھائی پر حملے کروانے والا پورے کا پورا سنڈیکیٹ نبیل گبول کا تھا۔ ظفر بلوچ کا قتل، میرے بھائی کا قتل اور اسے بہت سارے قتل جس کا مقصد صرف بد امنی پھیلانا تھا اور دوسرا آپریشن کی رفتار کو بڑھایا جائے۔ ان کو اس لیے قتل کیا گیا کہ میں جھک جاؤں۔ 15 مئی 2015 کو ایک دھماکے میں میرا بھائی قتل ہوا۔حبیب بلوچ نے کہا کہ رحمان بلوچ نے کہا تھا کہ آج کے بعد نبیل گبول یہاں نظر نہیں آئے گا اور دیکھ لیں نبیل گبول ہزار کوشش کے باوجود بلاول کو یہاں نہیں لا سکا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے برطانیہ کی شہریت چھوڑ دی تھی تاہم اب دوبارہ اس کی پروسیڈنگ کے لیے جاؤں گا۔پاکستان واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے وکلا سے بات کی ہے انہیں کے مشورے سے مکمل تیاری کے ساتھ جاؤں گا تاکہ زبردست طریقے سے اپنے لوگوں کا مقدمہ لڑ سکوں۔انہوں نے کہا کہ حبیب جان رہے نا رہے، عزیر بلوچ رہے نہ رہے لیاری کے لوگ دیواروں پہ لگے خون کے دھبے کبھی نہیں بھولیں گے؟حبیب جان بلوچ نے کہاکہ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ عزیر بلوچ نے کوئی قتل نہیں کیا۔ جب تک میرے ساتھ تھا میں نے دیکھا ہے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ٹیبل سٹوری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں