خضدار، چیک اینڈ بیلنس کا فقدان، ایل پی جی گیس اور نان بائی مافیا نے عوام کی کھال اتار دی
خضدار(بیورورپورٹ) خضدارمیں ایل پی جی گیس اورتندور نان بائی مافیازسمیت شہر میں درجنوں مافیاز سراٹھانے لگی ہے پورے ملک میں ایل پی جی گیس اورگندم کی قمیت کم ہوگئی ہے مگر خضدار میں کمی کے باوجود روٹی کی قیمت میں صرف پانچ روپئے کم کرکے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر کی مانند ہے دوسری جانب دیگرعلاقوں میں ایل پی جی گیس خضدار کی نسبت بہت کم داموں میں فروخت کررہی ہے جبکہ خضدار میں مافیازطاقتور کی شکل اختیار کرچکی ہے لوگوں کی کھال نکال رہے ہیں خضدار میں چیک اینڈ بیلنس کافقدان ہے پورے سال ایک مرتبہ پرائس کنٹرول کمیٹی خانہ پوری کی خاطر شہر کا سیروتفرح کرکے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک دیتے ہیں اس سے خضدار کے فرعونی سوچ کے مالک تاجر منافع خور مافیاز لوگوں کو سستی چیزیں دینے کا سوچ زہین سے نکال دی ہے خضدار میں گیس اور روٹی کی قیمتوں کو اعتدال میں لانے کیلئے پرائس کنٹرول کمیٹی فعال کردارادا کریں خضدار ایک لاوارث شہر بن چکی ہے بلوچستان کا دوسرا بڑا شہر میں لاقانونیت کی انتہا ہوچکی ہے شہر میں تاجربرادری مکمل طورپر بے لگام ہے ہرچیز اپنے مرضی کا بیچاجارہا ہے ایل پی جی گیس کی قیمت آسمان سےباتیں کررہی ہے نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں صرف پانچ روپئے کی کمی کرکے لوگوں پر احسان جتلارہی ہے پورے ملک اور خصوصاََ بلوچستان کے ہر اضلاع میں روٹی کی قیمت 15 روپئے سے 20 روپئے تک قیمت کردیا ہے گندم کی قمیت پہلے کی نسبت آدھے سے زیادہ کم ہوگئی ہے پورے ملک میں سستی قمیتوں پر ایل پی جی گیس اور روٹی سمیت دیگر ایشیاء فروخت کی جارہی ہے اور خضدار میں مافیاز کی بھرمارنے شہریوں کا جینا حرام کردیاہے پہلے خضدارکوصوبے کا سب سے سستی شہرسمجھاجاتاتھا اب سب سے زیادہ مہنگا شہر کا اعزاز حاصل کرچکی ہے اور عوام مافیاز کی بھرمارسے عاجز آچکے ہیں۔خضدار کے عوامی وسیاسی حلقوں نے کمشنر قلات ڈویژن محمدنعیم خان بازئی, ڈپٹی کمشنر خضدارمحمد عارف خان زرکون ,اسسٹنٹ کمشنر خضدار حفیظ اللہ کاکڑ ودیگرحکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خضدار شہر میں مافیاز کے خلاف سخت کاروائی کرکے عوام کی داد رسی کریں اور عوام سستے داموں چیزیں خرید سکیں۔


