خیبر پختونخوا میں 81 ترقیاتی منصوبوں کے خاتمے کا فیصلہ
اسلام آباد(آن لائن) حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے ساتھ بے حسی، فاٹا کے نئے ضم شدہ اضلاع کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے‘ کے پی کے میں جاری منصوبوں کو نکالنا ایس آئی ایف سی اور قومی اقتصادی کونسل کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے خاتمے سے صوبے کی محرومیوں میں اضافہ ہوگا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کے 91 ترقیاتی منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام سے نکالنا صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم ہوگا۔ باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت خیبر پختونخوا اور نئے ضم شدہ اضلاع کے لوگوں کی آواز دبانے سمیت عوامی مطالبات اور حالت زار کے حوالے سے مسلسل مجرمانہ بے حسی کا مرتکب ہو رہی ہے۔ وفاقی حکومت کے حالیہ فیصلے کے تحت خیبر پختونخوا میں 91 ترقیاتی منصوبوں کے خاتمے نے مساوی ترقی اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے عمل کو سنگین دھچکا پہنچے گا۔ یہ منصوبے صوبے کے سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے انتہائی اہم تھے جو تعمیر و ترقی، صحت، تعلیم، اور توانائی پر مشتمل تھے۔ ان 91 منصوبوں میں سے کچھ 70 فیصد مکمل ہو چکے تھے، لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے ان منصوبوں کو روک دیا گیا۔ ان منصوبوں کی تفصیلات دو گھنٹے قبل 31 مئی کو سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کے اجلاس میں بتائی گئیں۔ اس طرح کے اقدامات سے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔ کیونکہ یہ علاقائی اختلافات کو گہرا کر سکتا ہے اور قومی ترقی کے اصولوں کو کمزور کر سکتا ہے۔


