سی ٹی ڈی نے نیس الرحمٰن بلوچ کی گرفتاری ظاہر کردی
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)سی ٹی ڈی نے طالب علم انیس الرحمٰن کی گرفتاری ظاہر کردی تفصیلات کے مطابق انسداد تخریب کاری ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) نے طالب علم انیس الرحمٰن کی گرفتاری ظاہر کردی ،کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے مطابق انیس الرحمن سیکورٹی فورسز ، قبائلی رہنماؤں اور صدر پریس کلب صدیق مینگل پر حملوں میں ملوث تھا۔ان کے مطابق گرفتار انیس الرحمٰن کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔انسداد تخریب کاری ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) کی پریس ریلیز کے مطابق چروک چوک خضدار میں نامعلوم الاسم موٹر سائیکل سوار نے جمعیت العلماء اسلام کے عہدے دار صحافی محمد صدیق مینگل کی گاڑی کو اُس وقت میگنٹ IEDچرکا کر بذریعہ ریموٹ کنٹرول دھماکہ کیا جب وہ چمروک چوک سے گذر رہے تھے ۔ دھماکے کے زد میں آکر صحافی محمد صدیق مینگل سمیت تین اشخاص محمد ارت اور حمد کریم جاں بحق ہوئے اور چھ افرادشدید زخمی ہوئے جبکہ موٹر سائیکلوں اور رکشوں کوبھی نقصان پہنچا ،جس پر تھانہ ی ٹی ڈی خضدار میں مقدمہ فرد نبر 60/12024 زیر واقعه 07 34-3244127-03002 :4Exp- درج رجسٹر ہوا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق مقدمہ ہذا کی جدید طریہ تفتیش کے ذریعے کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عین وقوعہ سے CCTV فونج حاصل کی گئیں جس میں ایک نا معلوم مشتبہ شخص جس نے برنگ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سر پر سرخ رنگ کی ٹوپی (پی کیپ ) رکھی ہوئی تھی اور بینک پہنے ہوئے تھا چہرے پر سفید رنگ کا سرجیکل ماسک لگایا ہوا تھا کی نشاندہی ہوئی۔ مزید مختلف قبائلی معتبرین کے گھروں پر لگے CCTV کیمروں کی فوٹیج کی مددسے ایک جگہ کی نشاندہی ہوئی جہاں پر ملزم نے فرار ہوتے وقت اپنی ٹوپی، بینک اور ماسک پھینکے تھے ملزم کے سامان کو قبضہ میں لیا گیا اور کرائم سین یونٹ کی فنگر پرنٹ ٹیم کے ذریعے عینک سے فنگر پرنٹ حاصل کیے گئے وقوعہ کی جیوفینسنگ کرائی گئی جن کی مدد سے حاصل کردہ معلومات کی بناء پر مورخہ 13.06.2024 انیس الرحمن ولد عبدلرحمان قوم ساسوی سکنہ نال ہزار گنجی ، حال ڈاکٹر کالونی نزد محلہ شوکڑو خضدار شامل تفتیش کیا گیا۔ دوران تفتیش مشتبہ نے انکشاف کیا کہ ان کا تعلق کالعدم تنظیم سےہے اور ملزم انیس الرحمان بہا الدین زکریایو نیورسٹی کا طالب علم تھا اور وہاں پر BSO آزاد کا زونل صدر اور بلوچ اسٹوڈنٹ کونسل کا چیر مین تھا۔ ملزم جو کے کسی شخص کیساتھ ٹویٹر اکاونٹ میں رابطہ میں تھا جس میں ہمیشہ بلوچ آزادی پسند تنظیم کی طرف سے مختلف مواد شائع ہوتا ہے جن سے متاثر ہو کر ملزم نے ٹویٹر اکانٹ چلانے والے شخص سے رابطہ کیا اور حال احوال کے بعد کہا کہ وہ بلوچ آزادی پسند تنظیم کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔ جسکا اس نے ملزم کو کوئی جواب نہیں دیا بار ہ رابطہ کرنے پر ملزم نے اس کو اپنے فیملی ممبران کا حوالہ دیا جس پر ایکس اکاؤنٹ ہولڈر نے ملزم سے رابطہ کیا اور کہا کہ اپن chatting software) Wire) پر اکاونٹ بنائے ID اسے بھیجے جس کے ذریعے اُن کا آپس میں رابطہ رہے گا۔ ایک سال سے ملزم اس تنظیم کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس وقت تک ملزم نے صحافی مولانا محمد صدیق مینگل پر کی جانے والی واردات اور مورخہ 25.08.2023 کو نواب ثنا اللہ خان زہری کی رہائش گاہ کے قریب پولیس موبائل پر ہونے والے IED بلاسٹ کی وارداتوں میں ملوث ہونا بتلایا ہے۔ سی ڈی ڈی کے مطابق ملزم مختلف طریقوں سے تنظیم کی معاونت کرتا رہا ہے۔ جس میں ملزم مختلف مقامات و اشخاص جن میں میر اکبر سمالانی ، میر فدا ساسولی، پولیس آفیسزغوث بخش کی ریکی کرتا رہا ہے اس کے علاوہ مختلف مقامات سے بارود IEDs کی رسد بھی فراہم کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم سی ٹی ڈی کے حراست میںہے اور ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔


