بلوچستان کے وسائل ہمیشہ پنجاب کی روشنی بڑھانے کیلئے استعمال ہوئے، یہ زیادتیاں اب بند ہونی چائیے، اسداللہ بلوچ

پنجگور /نامہ نگار/ پنجگور بی این پی عوامی کے مرکزی صدر ورکن صوبائی اسمبلی میر اسداللہ بلوچ نے لاء کالج پنجگور کا افتتاح کیا اس موقعے پر پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری نوراحمد بلوچ مئیر کارپوریشن شکیل احمد قمبرانی ڈپٹی مئیر عبدالباقی بلوچ بی این پی عوامی کے ضلعی آرگنائزر رحمدل ڈپٹی آرگنائزر جلیل احمد نثاراحمد حاجی افتخار احمد عطاء مہر اور دیگر پارٹی رہنما وکارکناں انکے ہمراہ تھے لاء کالج کے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ سی پیک کے پہلی فیز جسکا معاہدہ 56 ارب ڈالر کا بیجنگ کے ساتھ ہوا تھا اس میں جو 25 ارب بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ریلیز ہوئے تھے اس سے بلوچستان کومکمل نظرانداز کیاگیا بلوچستان میں سی پیک کے رقم سے نہ سڑکیں بنی ہیں اور نا ریلوے کا نظام بنایا گیا بلکہ تمام سیکٹر میں بلوچستان کو محروم رکھا گیا اسی طرح ریکوڈک کے سودے میں بھی بلوچستان کا حصہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر رہا بلوچستان کے وسائل کو ہمیشہ پنجاب کی روشنیوں کو بڑھانے کے لیے خرچ کیاگیا یہاں کے باسی غربت میں جی رہے ہیں انکو اچھی تعلیم اور نا ہیلتھ کی سہولتیں حاصل ہیں بلوچ کا بچہ اسلام آباد کے حکمرانوں سے سوال کرنے میں حق باجانب ہے کہ وہ ان سے پوچھے کہ بلوچستان کے وسائل سے انکی فلاح وبہبود کے کام کیوں نہیں ہوتے کیا اپنے وسائل سے بھی ان کو حق نہیں دیا جائے گا اب یہ زیادتیاں بند ہونی چائیں بلوچستان کو بھی پنجاب کے طرز پر ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ بی این پی بلوچستان کے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں پر بھر پور آواز اٹھائے گا بلوچ عوام مرکزی حکومت کے نابرابری کے فلسفے کو رد کرکے حقوق کے حصول میں اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کریں میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے پاس پنجگور کی بہتری کے لیے کوئی سوچ وفکراور پروگرام موجود نہیں ہے 2023/ 2024 کے بجٹ میں پنجگور کے لیے جو 7 ارب روپے کی تجویز کردہ اسکمیں تھیں ان پر کٹ لگادیاگیا ہے اس نیک کام کے لیے نیشنل پارٹی نے سہولت کاری کی ہے یونیورسٹی اف مکران کو پستی کا شکار بنادیا گیا ہے وی سی نے اس کی اصل روح کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے یہ پنجگور کے عوام کا ایک اہم اثاثہ ہے جسے کسی سازشی کی خواہشات پر فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن حقوق ملنے سے آئے گا نیشنل پارٹی نے ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ ملکر الیکشن کے عمل کو یرغمال بنایا جو لوگ عوام کے رائے کے برعکس مسلط ہوئے ہیں وہ کھبی بھی عوام کی خیرخواہی کا نہیں سوچتے لاء کالج سمیت یونیورسٹی زرعی کالج بی آر سی اور پولی ٹیکنیک کالج نوجوان نسل کو ایک بہتر مستقبل دینے کی غرض سے بنائے گئے ہیں تاکہ ہمارے بچوں کو گھر کی دہلیز پر ایجوکیشن کے وہ تمام مواقعے دستیاب ہوں جو ملک کے باقی حصوں کے عوام کو حاصل ہیں میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ میری جہدوجہد عوام کے اجتماعی ترقی کے لیے ہے اور اس مقصد میں کافی حد تک کامیابی بھی ملی انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے ہمیشہ اجتماعی کاموں کے آگے رکاوٹ ڈالا یہ لوٹ مار کے لیے آئے ہیں ماضی میں انکو پنجگور کی ترقی کے لیے 4 ارب روپے ملے تھے یہ ان پیسوں سے پنجگور کی ترقی کے لیے ایک حشت بھی نہیں ڈال سکے پنجگور میگا واٹر سپلائی اسکیم بھی انکے دور کا عجائبات میں شامل ہے لاء کالج کو ابھی مذید سفر طے کرنے کا ہے نیشنل پارٹی شخیاں بگارنے کی بجائے عوام کو سبز باغ کا جھانسہ نہ دیں اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ اجتماعی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے نیشنل پارٹی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھے اور اسکے لیڈر پانچ وقتوں کی نماز ادا کریں تاکہ انکی آخرت سنور جائے انہوں نے کہا کہ پنجگور میں جو حالات ہیں اسکی پیشنگوئی میں الیکشن سے قبل کیا تھا کہ نیشنل پارٹی کے آنے سے پنجگور بدامنی کی طرف جائے گا آج یہ پیشنگوئی ثابت بھی ہوئی پنجگور میں روز ڈکیتی اور مارا ماری کا بازار گرم ہے ایک عوام کو ڈاکوؤں کا خوف ہے تو دوسری طرف نیشنل پارٹی کے پالے ہوئے ڈیتھ اسکواڈ نے غریب کاروباری افراد کا جینا حرام کر رکھا ہے پرائیویٹ چیک پوسٹیں لگاکر عوام سے جبری ٹیکس لے رہے انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی علاقائی مفادات کے ساتھ بلوچ قومی تحریک کو کرش کرنے میں بھی ہر اول دستے کا کردار ادا کرتا رہا ہے یہ وزرات کے لیے قوم کا سودا پہلے بھی لگاتے آئے اب دوبارہ یہ وزرات کے لیے سروں کی قربانی کے لیے بھی تیار بھیٹے ہیں بلوچستان ہماری ماں ہے جو قوم پرستی کے نام پر سرزمین کا سودا کرتے ہیں وہ کیا قوم کا دوست ہوسکتے ہیں میر اسداللہ بلوچ نے کہا کہ جہدوجہد کو نظریاتی وفکری طور پر استوار کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے وی سی پنجگور نے یونیورسٹی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے یونیورسٹی کا ونسق متاثر ہے اس وی سی کے لیے اب کوئی جگہ نہیں بنتا کہ وہ مذید مسلط ہوکر اس ادارے کو پستی کی طرف دھکیل دے انہوں نے کہا کہ 4 ہزار ایکڑ پر 7 ارب روپے کی لاگت سے یونیورسٹی کی بلڈنگ بن رہا ہے نیشنل پارٹی اور مافیاز میں کوئی فرق نہیں ہے وزیری اور کرسی میرا مقصد نہیں ہے ملک میں جمہوریت کے نام پر مارشلا مسلط کیاگیا ہے حکومتوں کو ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے پڑھا لکھا بلوچستان بی این پی عوامی کا خواب ہے منشیات کے خلاف عنقریب گرینڈ دھرنا دینگے آل پارٹیز کا کردار متنازعہ ہے یہ نیشنل پارٹی کے مفادات کی ترجمانی کررہا ہے پنجگور میں 20 ارب روپے کی ترقیاتی اسکمیوں پر کام کرواچکا ہوں 2024 / 2023 کے پی ایس ڈی پی میں شامل پنجگور کی اسکمیوں پر کٹ لگانے کے خلاف عدالت جاؤں گا یہ 7 ارب روپے جو پی ایس ڈی پی کا حصہ تھے میرے ذاتی اسکیمیں نہیں تھیں یہ عوام کے اجتماعی ترقی کی غرض سے پی ایس ڈی پی کا حصہ تھے 40 سالہ جہدوجہد کے دوران قوم کو قلم وکتاب سے محبت کا درس دیا بندوق کلچر کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جو لوگ سیاست کے نام پر اسلحہ کلچر کو فروغ دینا چارہے ہیں وہ علاقے کے عوام کے ازلی دشمن ہیں انکے خلاف عوام کو اکھٹا ہونا ہے افتتاحی تقریب سے بی این پی عوامی کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری نوراحمد بلوچ ضلعی آرگنائزر رحمدل بلوچ ڈپٹی آرگنائزر جلیل احمد سیلانی بی این پی عوامی کے سنئیر رہنما کامریڈ مجید بلوچ حاجی افتخار بلوچ علی جان بلوچ حاجی یاسین زہری حاجی محمد جان ملک میران ظہور زیبی اور دیگر نے بھی خطاب کیا اسٹیج سکریٹری کے فرائض عطاء مہر نے سرانجام دئیے اور اج کے شاندار پروگرام کے انتظامات اناؤنسمنٹ کمیٹی کے ممبران حاجی منیر احمد ، وسیم اشرف ، شمس الدین ، سعید اللہ اور کامریڈ حفیظ اللہ نے کر رکھے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں