بلوچستان کا 870 ارب روپے سے زائد کا سر پلس بجٹ کچھ دیر بعد پیش کیا جائے گا

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)بلوچستان کا 870 ارب سے زائد کا سرپلس بجٹ کچھ دیر بعد پیش کیا جائے گا، صحت، تعلیم اور بلدیات کے لیے ریکارڈز فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، جب کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ بجٹ میں تین ہزار نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بجٹ عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوگا، وفاق نے پی ایس ڈی پی سے متعلق خدشات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ذرائع محکمہ خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ سر پلس رہنے کا امکان ہے، گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں اس بار حجم 250 ارب سے زائد ہو کر 870 روپے ہو جائے گا۔ ترقیاتی منصوبوں کے لیے 220 ارب سے زائد مختص کئے جائیں گے۔شرح نمو کا ہدف پورا نہیں کر سکے، مشکل حالات میں بجٹ بنایا، وزیراعلی سندھ کی پوسٹ بجٹ کانفرنساس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ تعلیمی بجٹ میں ریکارڈ 52 فیصد کا اضافہ کرکے اسے 115 ارب کر دیا گیا ہے، جب کہ صحت کے لیے 68 ارب روپے مختص کئے جائیں گے۔محکمہ خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ پولیس، لیویز میں 3000 نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی، بلدیات کے بجٹ میں 110 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 16 سے بڑھا کر 35 ارب کیا جائے گا، جب کہ سولرآئزیشن اور گرین پاکستان کے لیے پچاس پچاس ارب مختص کئے جائیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو وفاق سے آئندہ مالی سال کے لیے 15ارب 32کروڑ روپے زیادہ ملیں گے، اس مد میں مجموعی طور پر وفاقی حکومت سے 667 ارب 55 کروڑ روپے ملیں گے۔محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قابل تقسیم محاصل سے بلوچستان کی آمدنی کا تخمینہ 647 ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ گیس اور تیل پر رائیلٹیز سے براہ راست منتقلی کی مد میں بلوچستان کو 20 ارب 55 کروڑ روپے ملیں گے۔ظہرانہ کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوگا، بجٹ میں تعلیم اور صحت ترجیح ہیں۔انھوں نے کہا کہ عوامی وسائل عوام کی فلاح و بہبود پرخرچ ہوں گے، وفاق نےپی ایس ڈی پی سے متعلق خدشات دور کرنےکی یقین دہانی کروائی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو کی توجہ سے بلوچستان کے اہم منصوبوں کو وفاقی بجٹ میں شامل کیا گیا ہے، بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرکے عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گوادر پورٹ کی فعالیت کے لئے صدر مملکت سے درخواست کی ہے ، سی پیک منصوبوں کا فائدہ بلوچستان کے عام آدمی کو ملنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں