شہباز شریف کی نیت صاف ہے، امید ہے تمام وعدے پورے ہوں گے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کا مشن جاری رکھوں گا، بے نظیر بھٹو نے کراچی کے عوام کے ساتھ مل کر 2 آمروں کا مقابلہ کیا۔ اتحادی حکومت میں پیپلز پارٹی کی بات سنی جا رہی ہے، شہباز شریف کی نیت صاف ہے، امید کرتے ہیں وہ پیپلز پارٹی سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں گے۔بے نظیر بھٹو کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر لیاری میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ اپنی قائد بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کراچی کے عوام کے ساتھ منا رہا ہوں۔ بے نظیر بھٹو اسی شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ بے نظیر بھٹو کا کراچی کے عوام کے ساتھ تعلق تاریخ میں لکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیاری کے عوام بے نظیر بھٹو کے لاڈلے تھے، انہوں نے اپنا مشکل ترین وقت بھی لیاری کے عوام کے ساتھ گزارا اور خوشی کے دن بھی انہیں کے ساتھ گزارے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شادی بھی اسی ککری گراؤنڈ میں ہوئی تھی اور میری پیدائش بھی اسی گراؤنڈ کے قریب لیڈی ڈفرن اسپتال میں ہوئی، لیاری کے عوام کے ساتھ ہمارا تعلق اور ساتھ بے مثال ہے، ہم نے 3 نسلوں سے یہاں کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑی ہے۔بے نظیر بھٹو نے لیاری کے عوام کے ساتھ مل کر 2 آمروں کا مقابلہ کیا، اس شہر کے عوام نے شہادتیں قبول کیں لیکن شہید بے نظیر بھٹو کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا، جب سے میں سیاست میں آیا ہوں، کراچی کے عوام کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہوں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ شہر جس میں، میں خود پیدا ہوا، اس کی ترقی کے لیے یہاں کےعوام کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا چاہا رہا ہوں، آپ نے تیسری بار پیپلز پارٹی پر اعتماد کرتے ہوئے ہمیں کامیاب کروایا ہے، اب ہم نے آپ کی امیدوں کے مطابق کام کرنا ہے، میں نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خاص طور پر کراچی کے عوام کے مسائل کی طرف توجہ دینے پر زور دیا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عبوری حکومت کے دور میں یہاں جو مسائل پیدا ہوئے تھے وہ آہستہ آہستہ حل ہو رہے ہیں، امن کے مسئلے پر ہمارے وزیر اعلیٰ دن رات کام کر رہے ہیں اور اس میں بہتری بھی نظر آ رہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے کہا ہے کہ کراچی کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ مسائل بڑھ رہے ہیں، یہاں پانی کا مسئلہ سب سے بڑا اور بنیادی ہے جس کے حل کے لیے کوشاں ہیں، اس کے لیے حب ڈیم سے کراچی کے لیے پانی کا منصوبہ بجٹ میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ بلوچستان، جنوبی پنجاب، سندھ میں اور خیبر پختونخوا میں زیادہ ہے جہاں 16 سے 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، جب غریب عوام کو بل ملتے ہیں تو ان کے لیے یہ بل ادا کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے موجودہ بجٹ میں مفت سولر دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کی مشکل دور ہو سکے، جو لوگ سولر کی قیمت ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں انہیں بھی سبسڈائز سستے سولر پینل فراہم کریں گے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پہلے مرحلے میں سولر پینل کی فراہمی کا سلسلہ آہستہ آہستہ شروع کریں گے اور 5 سال میں اس منصوبے کو مکمل کر لیں گے۔ صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ہم بے نظیر بھٹو کے وژن کے مطابق نوجوانوں کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت میں روز گار کے مواقع موجود ہیں مگر کسی نا کسی عدالت کے سٹے آرڈر کی وجہ سے نوجوانوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتے اس لیے وزیر قانون کو کہا ہے کہ وہ عدالتوں سے بات کریں کہ وہ یہ سٹے آرڈر ختم کریں تاکہ ہم اپنے نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں سکیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عدالتوں نے ایسے فیصلے سنائے ہیں جس کی وجہ سے اس صوبے کے غریب عوام کو روزگار سے محروم رکھا جا رہا ہے اس لیے مہربانی کریں اور سٹے آرڈر ختم کریں تاکہ میں کراچی، سندھ اور لیاری کے عوام کو ان کا حق دلا سکوں۔بلاول نے کہا کہ ہم نے بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کو آگے لے کر چلنا ہے، ملک کی مشکلات سب کے سامنے ہیں، اس وقت حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی جدوجہد کر رہی ہے،بہتر یہ ہوتا کہ حکومت وقت اپنے تمام اتحادیوں خاص طور پر پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر بجٹ بناتی تاکہ ہم اپنے مسائل بتا سکتے اور رائے دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ جب آپ بجٹ بنا رہے تھے تو پیپلز پارٹی کی رائے بھی ساتھ لی ہوتی تو آگے بڑھنے کے لیے بہت بہتر ہوتا، ہمارے نمائندے وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں، دیر سے ہی سہی پیپلزپارٹی کی بات سنی جا رہی ہے اور ہمیں وزیراعظم شہبازشریف سے پوری امید ہے اور ان کی نیت بھی صاف ہے کہ وہ پیپلز پارٹی سے کیے گئے تمام وعدے پورے کر کے دکھائیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم عوام کی آواز بن کر انہیں حقوق دلائیں گے، جہاں ایک طرف معاشی بحران بھی ہے اور دوسری جانب نفرت کی سیاست بھی عروج پر ہے، اسلام آباد جاتے ہیں تو سیاستدان ایک دوسرے سے ہاتھ تک نہیں ملاتے، ہم عوام کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، ہم ان تمام سیاسی جماعتوں پر جو اپنی انا کی وجہ سے، اپنے ذاتی مسئلے کی وجہ سے پاکستان اور پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ہمارے پورے معاشرے میں نفرت کی سیاست پھیلا رہے ہیں،زور دیتے ہیں کہ وہ نفرت کی سیاست چھوڑ کر پارلیمان میں مثبت کردار ادا کریں۔وہ پارلیمان جس کے لیے میرے لیاری کے عوام اور ملک بھر کے عوام نے جانیں قربان کی ہیں، جس دن ہم نے پارلیمنٹ کو طاقتور بنا دیا، جس دن تمام سیاسی جماعتیں ایک ہو کر فیصلہ کریں گی کہ ہم آپس کی لڑائیاں نہیں لڑیں گے، تب ہم تمام مشکلات سے نکل آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں