پی ٹی آئی پر پابندی سپریم کورٹ سمیت کوئی عدالت تسلیم نہیں کرے گی، بیرسٹر علی ظفر
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ان کی جماعت پر پابندی سپریم کورٹ سمیت کوئی عدالت تسلیم نہیں کرے گی۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ سیاسی انتقامی کارروائیوں کا فوری نوٹس لے ، مجھے لگتا تھا کہ سنی اتحاد کونسل کو نشستیں واپس ملیں گی مگر پی ٹی آئی کو نشستیں واپس دے کر سپریم کورٹ نے سرپرائز دیا ۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پی ٹی آئی چھوڑ کر دوسری پارٹیوں میں شامل ہونے والوں کی سیاست ختم ہو جائے گی، عمران خان نے مولانا فضل الرحمان سمیت کسی بھی پارٹی سے مل کر حکومت بنانے سے انکار کر دیا ، عمران خان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ دوبارہ الیکشن کروائیں یا مکمل مینڈیٹ واپس کریں۔ان کاکہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی اب چند دنوں کی بات ہے ، نظر ثانی درخواست دائر کرنا حکومت کا حق ہے لیکن فیصلہ پر عمل ہر صورت ہوگا ، پی ٹی آئی چھوڑ کر جانیوالوں کی سیاست ختم ہو جائیگی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس پابندی لگانے کی کوئی آپشن نہیں ہے، پابندی لگانا آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہوگی اور دہشتگرد پارٹی پر بھی پابندی کیلئے سپریم کورٹ جانا پڑتا ہے، یہ کس آئین اور کس قانون کے تحت آرٹیکل 6 لگا رہے ہیں ؟ میرے پاس افسوس کے علاوہ کوئی الفاط نہیں ہیں۔بعد ازاں پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ہم انہیں ہر سطح پر دیکھ لیں گے، عوامی سطح پر اور عدالتی سطح پر بھی دیکھ لیں گے، یہ جانتے ہیں ان کا فراڈ منظرعام پر آنے والا ہے، ہم فراڈ کے چھپانے پر ان کا ساتھ نہیں دیں گے۔سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ بے وقوفانہ بات ہے یہ کہنا کہ پی ٹی آئی ملکی سالمیت کے خلاف چل رہی ہے ، ان کا ارادہ صرف عوام کی آواز اور جمہوریت کو ختم کرنا ہے، ہمارا خیال نہیں تھا کہ یہ اتنے بے وقوف ہوں گے۔ واضح رہے کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کیلئے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ۔


