بلوچستان ہائیکورٹ، صوبے بھر میں شاہراہوں کی بندش کیخلاف درخواست پر سیکریٹری داخلہ و متعلقہ کمشنرز سے جواب طلب

کوئٹہ (انتخاب نیوز)بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد ھاشم خان کاکڑ و مسٹر جسٹس شوکت علی رخشانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جمعرات یکم اگست کو گوادر کے ایک شہری نزیر بلوچ کی آئینی درخواست پر وفاقی و صوبائی سیکریٹری داخلہ و متعلقہ کمشنرز کو نوٹس جاری کرتے ہئے جواب طلب کیا ہے کہ صوبے کے طول و عرض میں راستوں کی بندش سے عوام کو آمدورفت و کاروبار و تعلیم و صحت کی راہ مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کئ مریض و مسافر و طالب علم راستے میں پھنسے ھوئے ہیں خواتین و بچوں کو زحمت و دقت اُٹھانی پڑی ہے حال ہی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسی و جسٹس جمال خان مندوخیل و جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کراچی کے تناظر میں پورے ملک کی حکومتوں کوحکم جاری کر دیا ہے کہ راستوں کی رکاوٹوں کو تین دن کے اندر دور کردیں یہ احکامات تمام صوبائ حکومتوں سمیت وفاقی حکومت کو بھجوائ گئ ہے مگر اس کے باوجود حکومت اس پر من و عن کے ساتھ عمل درآمد کی بجائے اس فیصلے پر عملدرآمد سے روگردانی کرکے آئین کے آرٹیکل 189 آور سپریم کورٹ کے فیصلے مجرہ 2024 SCMR 1137 پیرا 9,10&11 کی دانستہ خلاف ورزی کررہی ہے اس پر کاروائی کی استدعا کی عدالت میں درخواست گزار کے وکیل امان اللہ کنرانی کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرکے سماعت ملتوی کردی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں