بلوچستان اسمبلی اجلاس، سیکورٹی اہلکاروں اور حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کیلئے فاتحہ خوانی

کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو 40منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر غزالہ گولہ کی زیرصدارت شروع ہوا اجلاس میں سیکیورٹی فورسز کے جان نثاروں اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس میں رحمت صالح بلوچ نے پوائنٹ آرڈر پر اظہار خیا ل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے عوام کی تکلیف کو دور کرے، گوادر میں میں پانی اور راشن ختم ہوگیا ہے، شاہراہیں بند ہیں، جن کی وجہ سے لوگوں میں حکومت کیخلاف نفرت پھیل رہی ہے حکومت اور اپوزیشن مل کر بلوچ یکجہتی کمیتی کے رہنماﺅں سے مذاکرات کریں، گوادر میں سرکاری دفاتر جلا دیے گئے ہیں، دھرنے کے مطالبات کو دیکھ کر حل نکالاجائے۔ قائد حز ب اختلاف میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ کراچی جانے کیلئے لوگوں کو دشواری کا سامنا ہے مسئلہ کا حل نکالا جائے صوبے میں خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے تیار فصلیں خراب ہورہی ہے ایک طرف بارش دوسری طرف سڑکیں بند ہیں شاہراہوں کی بندش آدھا بلوچستان بند ہے صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہاہے کہ حکومت سنجیدگی سے کام کررہی ہے احتجاج کرنے کا سب کو حق مگر پر امن گوادر میں دفاتر جلا دیے گئے رکن اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بیوروکریسی بے لگام ہوچکی ہے سیکرٹری ایس اینڈ جی ڈی نے مجھ سے بد تمیزی کی ہے سیکرٹری بدمعاشی کررہے ہیں سیکرٹری کو طلب کرکے ایم پی اے سے بد تمیزی کے حوالے سے پوچھا جائے اپوزیشن اراکین نے خاتون ایم پی اے سے بدتمیزی پر اسمبلی سے احتجاجاً واک آﺅٹ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں