آيا صوفيہ کے فيصلے پر عدم اطمينان ’اسلام دشمنی‘ ہے، ترکی کا يونان کو پيغام
آيا صوفيہ کی حيثيت پر ترکی اور يونان کے مابين سخت الفاظ کا تبادلہ ديکھنے ميں آيا ہے۔ گزشتہ روز قريب چھياسی برس بعد اس تاريخی عمارت ميں دوبارہ نماز جمعہ ادا کی گئی، جس ميں ترک صدر نے بھی شرکت کی۔
آيا صوفيہ کو ايک عجائب گھر سے مسجد ميں تبديل کرنے کے حاليہ فيصلے پر ہفتے کو يونان اور ترکی کے مابين سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا ہے۔ يونان کی جانب سے تنقيد پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوئے نے ہفتے کو کہا کہ يہ پيش رفت يونان کی اسلام اور ترکی سے دشمنی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ترک حوزارت خارجہ نے ايتھنز حکومت اور ارکان پارليمان کی جانب سے تنقيد کو لوگوں کو ترکی کے خلاف اکسانے کی ایک کوشش بھی قرار ديا۔
اپنے ايک تازہ بيان ميں يونانی وزير اعظم نے کہا کہ ‘جو کچھ ہوا، وہ طاقت کی نشانی نہيں بلکہ کمزوری کی علامت ہے‘۔ يونانی وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گيا ہے کہ موجودہ دور کے ترکی ميں مذہبی اور قوم پرستانہ رجحانات پر دنيا حيرت زدہ ہے۔
يہ امر اہم ہے کہ ترکی اور يونان روايتی حريف ممالک ہيں۔ مشرقی بحيرہ روم ميں تيل اور گيس کی تلاش کا معاملہ دونوں کے مابين ان دنوں تازہ کشيدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔ علاوہ ازيں مہاجرين کا معاملہ اور قبرص بھی دونوں ملکوں کے مابين تنازعے کا سبب ہيں۔
آیا صوفیہ کی تاريخی عمارت تقریباً پندرہ صدیوں پر مشتمل تاریخ کی حامل ہے۔ بازنطینی سلطنت کے بادشاہ جسٹینین نے چھٹی صدی عیسوی میں اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ نو سو سال سے زائد عرصے تک یہ آرتھوڈوکس چرچ کا مرکز رہی۔ پھر سن 1453 میں خلافت عثمانيہ کے سلطان محمد ثانی نے قسطنطنیہ فتح کیا، تو آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا۔ جديد ترکی کی بنياد رکھتے وقت کمال اتا ترک نے آيا صوفيہ کو ايک عجائب گھر کی حيثيت دے دی تھی۔ حال ہی ميں عدالتی فيصلے کے بعد ترک صدر رجب طيب ايردوآن نے ايک خصوصی صدارتی حکم نامے کے ذريعے آيا صوفيہ کو دوبارہ ايک مسجد ميں تبديل کيے جانے کی منظوری دے دی تھی۔ جمعے سے آيا صوفيہ کے دروازے چھياسی برس بعد نمازيوں کے ليے دوبارہ کھول ديے گئے۔


