محکمہ تعلیم میں اسامیوں کے انٹرویو کیلئے وزیراعلیٰ کی قائم کمیٹی کیخلاف کیس دائر کریں گے، امیدوار

خضدار (بیورو رپورٹ) سرداربہادر یونیورسٹی کی خالی اسامیوں پر انٹرویو میں کامیاب شارٹ لسٹ امیدواروں محمد سلمان ساسولی، عبدالمہین لہڑی، زاہد احمد قلندرانی، عبدالرحمان قلندرانی، ظفراللہ زہری ودیگر نے خضدار پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے سال SBK یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ 9 سے لے کر گریڈ 15 تک کی 9 ہزار سے زائد خالی اسامیوں کا اشتہار مختلف اخبارات میں شائع ہوا تھا اسکریننگ ٹیسٹ کا شیڈول 20 مئی 2023 سے 20 جون 2023 تک دیا گیا تھا جس میں بلوچستان کے دو لاکھ سے زائد تعلیم یافتہ نوجوانوں نے شرکت کی اسکریننگ ٹیسٹ کے عمل کی تکمیل کے بعد جب نتائج آنے والے تھے تو بدقسمتی سے بعض تعلیم اور میرٹ دشمن عناصر نے ایک شخص کے ذریعے SBK یونیورسٹی پر کرپشن کا الزام لگایا اور 26 دسمبر 2023 کو بلوچستان ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر حاصل کرلیا، بعد ازاں اس فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا گیا جس پر 24 اپریل 2024 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ تمام فارملٹیز کو جلد ازجلد مکمل کر کے 2019 کی پالیسی کے تحت ان تعیناتیوں کو عمل میں لایا جائے تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سپریم کورٹ اور 2019 کی پالیسی کے برخلاف ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں گریڈ 20 اور 21 کے افسران شامل ہیں اور اس کمیٹی کو PRC کا نام دیا گیا تاکہ وہ پاس ہونے والے امیدواروں کا انٹرویو لے یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے حکم اور 2019 کی پالیسی کے بالکل متصادم ہے جو کہ پورے بلوچستان کے شارٹ لسٹڈ امیدواروں کے لیے ناقابل قبول ہے اگر وزیر اعلیٰ کو لگتا ہے کرپشن ہوا ہے یا جو لوگ نے پیسے دیکر پاس ہوئے ہیں انکی رزلٹ رکوا کر انکی انکوائری کریں جس امیدوار پر کسی نے پیسے کی لین دین کی شکایت جمع کی ہے انکی تحقیقات کرکے بیشک انہیں سزا دے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے نہ کہ ان تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو جو پچھلے ڈیڑھ سال سے انتظار میں ہیں کہ کب ان کے آرڈرز جاری ہوں گے اور کب ان کے سر سے بے روزگاری کا بوجھ ا±ترے گااشتہار کی شرط نمبر 5 کے مطابق، اگر بلوچستان حکومت یا سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے دیگر قوانین اس ریکروٹمنٹ کے ساتھ متصادم ہوں تو وہ قابل عمل نہیں ہوں گے۔ موجودہ انٹرویو اور کنٹریکٹ دونوں 2019 کی پالیسی کے خلاف ہیں۔ 2019 کی پالیسی کے مطابق DRC اور CRC کو پاس امیدواروں کی اسکروٹنی کرنی تھی، مگر وزیر اعلیٰ کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کی وجہ سے DRC اور CRC کی کوئی حیثیت نہیں رہی ہم اس غیر قانونی عمل کے خلاف توہین عدالت کا کیس دائر کرنے جا رہے ہیں خوش قسمتی سے ہمارے دوستوں نے جمعہ کے روز یہ کیس عدالت میں دائر کر دیا ہےاور ہمیں امید ہے کہ اگلے ہفتے تک تاریخ بھی مل جائے گی انہوں نے کہا اگر جلد تقرری کے آرڈرنہ کئے گئے ہم بھرپور احتجاج کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں