نصاب کی زبان کو انگریزی بنانا ذہنی غلامی ہے، جمیعت

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے ترجمان نے وفاقی وزیر تعلیم کی جانب سے نصاب کو انگریزی میں تبدیل کرنے کی تجویز کو ذہنی غلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے آتے ہی قومی ترجیحات کو نقصان پہنچانے میں لگی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ قومی زبان اردوہی کی بدولت پوری قوم کے درمیان مظبوط رشتہ اور رابطہ ہے دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنی زبانوں میں نظام تعلیم مرتب کرکے ترقی کی منازل طے کئے ہیں جبکہ ہمارے "رٹا سسٹم” کے دلدادہ احساس کمتری کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام وزارت تعلیم کے زیراہتمام 16جولائی کو اسلام آباد میں نئے یکساں قومی نصاب میں ذریعہ تعلیم پر ہونے والے مجوزہ اجلاس کے لیے تیار کی گئی اس تجویز کو مسترد کرتی ہے کہ ذریعہ تعلیم سوائے اسلامیات کے نرسری سے لے کر پانچویں جماعت تک انگریزی ہوگا، انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت مفکر اسلام مولانا مفتی محمود جب 1972میں صوبہ سرحد(خیبرپختونخواہ) کے وزیراعلی بنے تھے تو انہوں نے ہرقسم رکاوٹوں کے باوجود اردو زبان کی ترویج کا فیصلہ کیا تھا انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان کے ذریعے قوم کو مزید گونگا بہرا کرکے اردو اور مقامی زبانوں کی حق تلفی کی سازش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ انگریز کی پیدا کردہ غلامانہ ذہنیت ہے کہ انگریزی کے بغیر علم نہیں آسکتا اور انگریزی کے بغیر قوم ترقی نہیں کرسکتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم اپنی زبان ہی میں ترقی کرسکتی ہے اور اردو جو آئینی طور پر بھی پاکستان کی قومی زبان ہے اور عملاً بھی پاکستان میں رابطے کی زبان ہے، اسے ذریعہ تعلیم بنانا چاہیے لیکن ہمارے مغرب زدہ وزیر تعلیم اور دوسرے حکومتی لوگ اس حقیقت کو جھٹلاکر قوم پر انگریزی کی غلامی مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اْردو ہماری قومی زبان اور وحدت کی علامت ہے اور اس کی حیثیت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کی جائے گی انہوں نے کہا کہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانا بہرحال تعلیمی، تہذیبی اور دینی لحا ظ سے قوم کے لیے نقصان دہ اور ناقابل قبول ہے انگریزی بطورِ مضمون مدارس کے نصاب کا بھی حصہ ہے مگر اسے تمام علوم کی کامیابی کیلئے "امرت دھارا’ سمجھنا ننگی حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں