روزنامہ انتخاب کو اشتہارات کی بندش گھناﺅنی سازش کا حصہ ہے، امان اللہ کنرانی
کوئٹہ (پ ر) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں روزنامہ انتخاب کی طویل عرصے سے اشتہارات کی بندش پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کو صوبے کے اساس و وطن عزیز کیخلاف گھناﺅنی سازش قرار دیا۔ روزنامہ انتخاب صوبے کا پہلا سب سے زیادہ پڑھا جانے کا اعزاز رکھنے والا اخبار ہے، اس کے چیف ایڈیٹر انور ساجدی زمانہ طالب علمی و دور جوانی ہی سے بلوچستان کے مسائل سے بالعموم اپنے خطے کی مشکلات سے مسلسل قوم و ملک کو آگاہی دیتے رہے ہیں، ضلع خضدار و آوارن میں ششک کیخلاف تحریک ہو یا کسان مزدور کے حقوق کی جدوجہد یا آزادی صحافت کیلئے آواز اٹھانا اس کی کاوشوں کا محور رہے ہیں، وہ اس وقت بین الاقوامی جنگ کے ادارے سے الگ ہوکر صوبے کی آواز بنے جب اس ادارہ کا طوطی بولتا تھا اگر ساجدی صاحب صوبے کے خاطر قربانی نہ دیتے تو آج وہ اسی ادارے کے چیف ایڈیٹر اور دبئی میں محلات کے مالک ہوتے، ساجدی صاحب کا تعلق اس خطہ سے ہے جو اس وقت افریقہ کے بعد خط غربت سے نیچے شمار ہوتا ہے یہاں آواران و مشکے و جھاﺅ کی سرزمین سے تین ستارے ابھرے اور نام پیدا کیا، جناب ساجدی کو انتخاب اخبار کی تحریک و توجہ نواب اکبر خان بگٹی شہید نے دی اور ساجدی صاحب اپنی سوچ و فکر میں آزادی کے باعث کسی سرکاری خوشامد کے قائل نہیں رہے یہی وجہ ہے بلوچستان میں کسی قانون و قاعدے و انصاف کے برعکس قصیدے پڑھنے والوں کو اشتہارات دیے جاتے ہیں جبکہ آزاد رائے رکھنے والوں کو اس سے محروم رکھا جاتا ہے، حالانکہ خزانہ قوم کا ہے اس کے اندر سب کے ساتھ آئین کے تحت مساوی سلوک ہونا چاہیے نا انصافی نہیں۔


