کوئلو، نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام صحافی کے قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

.کوہلو:نیشنل پارٹی کے زیراہتمام بارکھان میں صحافی کے قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری خلاف احتجاجی مظاہرہ ریلی و جلسہ تفصیلات کے مطابق آج بلوچستان کے ضلع کوہلو میں نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام بارکھان میں صحافی شہید انورجان کھیتران کے قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری خلاف احتجاجی احتجاجی ریلی نکالی گئی ریلی نیشنل پارٹی کے ضلعی سیکرٹریٹ سے شروع ہوکر شہر کے مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے بینک چوک کوہلو میں مظاہرے کا شکل تبدل ہوگیا مظاہرین نے ہاتھوں پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جس میں صحافی انورجان کھیتران کے حق میں اور فرسودہ قبائلی نظام کیخلاف شدید نعرے بازی درج تھے نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری وڈیرہ علی نواز ضلعی صدر محمدین مری اور دیگر عہدے داروں نے سرداری اور فرسودہ قبائلی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور شہید انورجان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما چئرمین مہراب بلوچ نے شہید انورجان کھیتران کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ھوئے کہا کہ نوجوانوں کو سیاسی شعور و آگاہی پیدا کرنے پر ان کے خدمات کو خوب زندگی بھر یاد رکھا جائے گا محراب بلوچ نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ھوئے وزیر اعظم عمران خان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی و صوبائی حکومتی ایوانوں میں عام غریب مزدور اور ملازمین کیلئے کوئی مثبت پالیسی و حکمت عملی نہیں دے سکا جس کی وجہ سے غریب عوام کا جینا مشکل اور محال ہوگیاانہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان اور پاکستانی عوام سے محبت ہے ہم بلوچستان کے عوام کی خوشحالی اور ترقی دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہاں امن و امان کی صورتحال بگڑتی نظر آرہا ہے آئے روز شہریوں اور صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور قتل جیسے واقعات رونما ہورہے ہیں اور قاتل آزاد گھوم رہے ہیں جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ھے انہوں نے کہا کہ ہم شفاف جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں نہ کہ بند کمرے کی سلیکشن پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں دھاندلی کے فتح سے حقیقی جمہوری عمل کے ووٹنگ کی شکست پر فخر ہے آخر میں انہوں نے صحافی شہیدانورجان کھیتران کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے انکے قاتلوں کے فوری گرفتاری کامطالبہ کیا ان کا کہنا تھا کہ انور جان کھیتران کے قاتلوں کی عدم گرفتاری حکومت کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں