کیسکو، بجلی صارفین کے ذمے بقایا جات 672 ارب روپے سے تجاوز کر گئے

کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو) کے نادہندگان کے ذمہ بجلی بلوں کی مدمیں ماہ اگست 2024تک کے مجموعی بقایاجات672ارب 97کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔اس مذکورہ رقم میں سے زرعی صارفین کے ذمہ516ارب71کروڑ روپے سے زائد بقایاجات واجب الاداہیں۔ اسکے علاوہ زرعی سبسڈی کی مدمیں حکومت بلوچستان نے53ارب40کروڑروپے جبکہ زرعی سبسڈی کی مدمیں وفاقی حکومت نے 20ارب74کروڑروپے اداکرنے ہیں۔اسی طرح صوبائی حکومت اوراس کے ذیلی محکموں کے ذمے تقریباً39 ارب18کروڑ روپے جبکہ وفاقی حکومت کے ذیلی محکموں کے ذمے 3ارب 17کروڑروپے نیز گھریلو،کمرشل اور دیگر صارفین کے ذمہ تقریباً39ارب71کروڑروپے کے بقایاجات واجب الاداہیں۔
نادہندہ صوبائی محکموں میں واساکے ذمہ 273ملین روپے، محکمہ پی ایچ ای18835ملین روپے،محکمہ صحت کے ذمہ2941ملین روپے، کمیونیکشن اینڈورکس346ملین روپے، پاپولیشن اینڈپلاننگ58ملین روپے، محکمہ ایری گیشن اینڈپاور154ملین روپے، لائیواسٹاک اینڈڈیری ڈپارٹمنٹ 167ملین روپے،محکمہ فشریز129ملین روپے،ویٹرنری ڈپارٹمنٹ کے ذمہ 66ملین روپے،محکمہ بلڈنگز کے ذمہ 209ملین روپے، سوشل ویلفیئر119ملین روپے، محکمہ لوکل باڈیز 3028ملین روپے، سیکنڈری ایجوکیشن 70696ملین روپے، وزیر اعلیٰ کے دفاتر21ملین روپے،جوڈیشل اکیڈیمی تقریباً23ملین روپے، ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج27ملین روپے،لوکل گورنمنٹ اینڈرورل ڈیولپمنٹ 395ملین روپے، پلاننگ اینڈڈیولپمنٹ 22ملین روپے، لیبر اینڈمین پاور 34ملین روپے، محکمہ پولیس1247ملین روپے، محکمہ تعلیم 621ملین روپے،کالجز اینڈہائیر ایجوکیشن 434ملین روپے،محکمہ انڈسٹریز32ملین روپے، کمشنرز دفاتر 60ملین روپے، ڈپٹی کمشنرز دفاتر1123ملین روپے، محکمہ خزانہ27ملین روپے، محکمہ جیل 142ملین روپے، محکمہ زراعت470 ملین روپے، فوڈڈیپارٹمنٹ 74ملین روپے،فارسٹ اینڈوائلڈلائف73ملین روپے، بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی77 ملین روپے، کیو ڈی اے 20ملین روپے، گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی53 ملین روپے کے بقایاجات واجب الاداہیں۔وفاقی محکموں کے ذمہ بھی کیسکوکے بجلی واجبات بقایاجات ہیں ا±ن میں پی ٹی سی ایل124 ملین روپے،این ٹی سی ڈپارٹمنٹ9ملین روپے، کوسٹ گارڈکے زمہ9ملین روپے، فیڈرل شریعت کورٹ6ملین روپے، الیکشن کمیشن کے ذمہ17ملین روپے،پاکستان ریلوے 30ملین روپے، پاکستان پوسٹ آفس کے ذمہ110ملین روپے، بلوچستان یونیورسٹی73ملین روپے،بہادرخان یونیورسٹی10ملین روپے، سینٹرل ایکسائز لینڈکسٹم کے ذمہ تقریبا116ملین روپے،محکمہ نادارتقریباً11ملین روپے، محکمہ این ایل سی 53ملین روپے، سوئی ناردن گیس کمپنی 9ملین روپے، پلانٹ پروٹیکشن تقریبا10ملین روپے، پاکستان براڈکاسٹنگ 28ملین روپے، گوادرپورٹ اتھارٹی9ملین روپے،اے ایس ایف کے ذمہ 11ملین روپے،سول ایوی ایشن 4ملین روپے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی 6ملین روپے، میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ذمہ تقریباً 8روپے اور محکمہ آرکیالوجی کے ذمہ 13ملین روپے کے بقایاجات شامل ہیں۔واضح رہے کہ نادہندہ صارفین اور نادہندہ سرکاری محکموں کی جانب سے بروقت بجلی بل اور بقایاجات جمع نہ کرانے کی وجہ سے بجلی کے جاری ترقیاتی منصوبے بھی متاثرہونے کے علاوہ سرکلر ڈیٹ میں بھی اضافہ ہوتاجارہاہے جس پر حکومت پاکستان نے تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کوہدایات دیں ہیں کہ وہ نادہندگان سے بقایاجات کی وصولی کو یقینی بنائیں۔کیسکوچونکہ بذات خود بجلی خریدنے اوربیچنے والی ایک کمپنی ہے جوکہ ادائیگی کے بغیر کسی بھی صارف کو بجلی فراہم نہیں کرسکتی۔لہٰذاصارفین کوبجلی فراہم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ کیسکوخریدی گئی بجلی کی بروقت ادائیگی کریں جوکہ صرف اورصرف بلوں کی وصولیابی سے ہی ممکن ہے۔اسی لئے کیسکو اپنے تمام نادہندہ صارفین خصوصاً زرعی صارفین سے اپیل کر تی ہے کہ وہ اپنے بل مقررہ وقت پر اداکرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ذمے تمام واجب الادابقایاجات بھی اداکریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں