پاکستان لا اینڈ آرڈر اور سیکورٹی کے شعبے میں دنیا کا تیسرا خراب ترین ملک ہے، ورلڈ جسٹس پروجیکٹ
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈیسک) ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کا 2024کے مطا بق نظم و ضبط اور سیکورٹی کے شعبے میں پاکستان 142 ممالک میں سے تیسرا خراب ترین ملک ہے کیونکہ اس کی عالمی پوزیشن 142 ممالک میں 140 ویں نمبر پر ہے۔ خطے میں، نظم و ضبط اور سیکورٹی کے لحاظ سے پاکستان بدترین ملک ہے کیونکہ خطے میں 6 ممالک میں سے اس کا چھٹا نمبر ہے۔ دیوانی اور فوجداری انصاف، بنیادی حقوق، حکومت، کرپشن، ریگولیٹری نفاذ اور نظم و ضبط اور سکیورٹی کے شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی بھی خراب ہے۔ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کا رول آف لاءانڈیکس ملک کے نظام انصاف کے ساتھ طرز حکمرانی کیلئے بھی ایک سنگین چارج شیٹ ہے۔ رپورٹ میں کے مطابق کل 142 ممالک میں سے پاکستان کی عالمی درجہ بندی 129 ویں نمبر پر ہے۔ 2023 میں قانون کی حکمرانی کے انڈیکس میں پاکستان کا درجہ 142 ممالک میں 130 واں تھا۔ خطے میں یہ 6 ممالک میں سے پانچویں نمبر پر ہے۔شہری انصاف کی فراہمی میں پاکستان کی عالمی پوزیشن 128ویں جبکہ خطے میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ریگولیٹری انفورسمنٹ (ضابطوں کے نفاذ) کے شعبے میں پاکستان کی عالمی پوزیشن 127ویں اور خطے میں پانچویں نمبر پر ہے۔ بنیادی حقوق کے شعبے میں پاکستان کی عالمی پوزیشن 2024ء میں 142 ممالک میں 125ویں نمبر پر ہے۔ خطے کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان چوتھے نمبر پر ہے۔ اوپن گورنمنٹ (کھلی حکومت) کے شعبے میں دیکھیں تو پاکستان عالمی درجہ بندی میں 106 ویں نمبر پر ہے جبکہ خطے میں چوتھے نمبر پر ہے۔ کرپشن کی عدم موجودگی کے لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کو 142 ممالک میں 124 نمبر پر دکھایا گیا ہے۔ خطے کے 6 ممالک میں سے پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔ حکومت کے اختیارات میں رکاوٹوں کے حوالے سے پاکستان عالمی درجہ بندی میں 103ویں جبکہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں چوتھے نمبر ہے۔


