نوجوانوں کو ماروائے قانون و آئین جبری گمشدگی کا شکار بنا کر حالات کو مزید گمبھیر بنایا جا رہا ہے، بی ایس او(پجار )
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پجار کے مرکزی کمیٹی کا اجلاس بمقام شال مرکزی چیرمین بوہر صالح بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس کی کارواٸی مرکزی سیکرٹری جنرل ابرار برکت نے چلایا اجلاس کا باقاعدہ آغاز شہداٸے بلوچستان کے یاد میں دو منٹ کی خاموشی ہوا اس کے بعد تنظیمی رپورٹ، تنظیمی امور ، علاقای ملکی و عالمی سیاسی صورتحال اور آئندہ کا لائحہ عمل ایجنڈے زیر بحث ہوئے ۔ اجلاس میں مرکزی چیرمین بوہر صالح بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جان بوجھ کر نوجوانوں کو ماروائے قانون و آئین جبری گمشدگی کا شکار بنا کر حالات کو مزید گمبھیر بنا رہا ہے، ہمارا قومی تاریخ ہے کہ بلوچ نے ظلم و جبر کو ہر دور میں بھرپور للکارا ہے میر یوسف عزیز مگسی سے لے کر شہید فدا کے کاروان کے ساتھیوں تک بلوچ نے اپنے قومی وسائل اور قومی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے ہزاروں جانوں کا نظرانہ پیش کیا ہے، لاپتہ افراد کے مسلے پر ریاستی غیر سنجیدگی تشویشناک ہے، ریاستی ماروائے قانون و آئین اقدامات پر انسانی حقوق کے تنظیموں کا خاموش تماشائی ہننا ان کے کردار پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم تاریخ انتہاٸی نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں بیک وقت ہماری قومی شناخت قومی ثقافت و سرزمین کو خطرات لاحق ہے بلوچ وساٸل کی لوٹ کھسوٹ بے دردی سے جاری ہے ان حالات میں بلوچ نوجوانوں کو منظم ہوکر اپنی قومی پہچان و سرزمین کی دفاع کرنے کے لیے بی ایس او پجار کا حصہ بننا چاہیے کیونکہ بی ایس اوپجار ہی واحد پلیٹ فارم ہے جس پر ہم متحد ہوکر منظم طریقے سے قومی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیںسی سی ممبرز نے مزید کہا کہ ان آشوب زدہ دور میں جہاں بلوچستان کو مقتل گاہ بنایا گیا ہے آئے روز مسخ شدہ لاشوں کا تحفہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا لاپتہ کرنا معمول بن چکا ہے ۔تعلیمی ادارے کھنڈرات بنادیئے گئے ہیں لاقانونیت عروج پر ہے ان حالات میں بلوچ قوم کے لیے یکجہتی اتحاد بہت ضروری ہے بلوچ قوم قوم پرستانہ سیاست کے نظریہ کو لیکر نظریاتی فکری جدوجہد کے راستے پر کاربند ہو یہی ایک واحد راستہ ہے جہاں سے ہم ان حالات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔اجلاس سے سیاسی صورتحال پر بحث کرتے ہوئے اراکین مرکزی کمیٹی نے مزید کہا کہ بندوق کے زورپر بلوچستان میں جو خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اب اسے بند ہونا چاہیے ۔بندوق کا سہارا لیکر کوئی جنگ جیتی نہیں جاتی اس سے نسلیں تباہ ہوتی ہے بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے ضروری ہیکہ یہاں ماضی کے تمام تجربات ختم کرکے آئین قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے.انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے مرکزی قومی کانگرس بلوچستان کی موجودہ صورتحال ملکی سیاست میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ امید رکھتے ہیں کہ بلوچستان کے چیدہ مساہل پر نیشنل پارٹی کے کونسلران تین سال کے لیے اہم فیصلے کریں گے۔ اجلاس سے مرکزی سینر واٸس چیرمین بابل بلوچ، جونیر واٸس چیرمین ڈاکٹر طارق بلوچ ، سینیر جواہنٹ سیکرٹری نوید تاج بلوچ انفارمیشن سیکرٹری ادریس بلوچ صوبائی صدر شکیل بلوچ ، صوباٸی جنرل سیکرٹری شٸے مرید بلوچ اور اراکین مرکزی کمیٹی خطاب کیے تنظیم کی آئندہ تین مہینے کے لیے فیصلہ لیا گیا اور دورہ کمیٹی تشکیل دیا گیا جن کو مرکزی سرکولر میں جاری کیا جائے گا


