بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ، جہالت کے اندھیرے ختم کرکے علم کی روشنیوں میں بدلیں گے، وزیر اعلی سرفراز بگٹی

کوئٹہ (آن لائن) وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے منگل کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں قائم جامعہ اسلامیہ ایجوکیشن سسٹم کا دورہ کیا اور سائنس لیبارٹری، کلاس رومز ،لائبریری سمیت ادارے کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا وزیر اعلی نے درس گاہ میں دینی و دور جدید کی تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ درسی نصاب کے نفاذ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے منتظمین کی خدمات کو سراہا اور کلاس رومز کے لئے فوری طور پر فرنیچر کی فراہمی سمیت مسلم آباد ائیر پورٹ روڑ سے درسگاہ تک آمد و رفت کے لئے بلیک ٹاپ روڑ ، بنیادی مرکز صحت اور اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر اور درسگاہ کی تعلیمی خدمات کے پیش نظر 10 ایکڑ سرکاری اراضی فراہم کرنے کا اعلان کیا یہ اراضی حال ہی میں چشمہ اچوزئی میں قبضہ مافیا سے واہ گزار کرائی گئی ہے اس موقع پر منتظمین اور علاقے کے قبائلی عمائدین سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ ہے جس کے تحت اصلاحی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں جن پر بتدریج عمل درآمد کیا جارہا ہے بلوچستان بھر میں بند اسکول کھل رہے ہیں اور عادی غیر حاضر اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کرکے مستقل گھروں کو بھیجوا رہے ہیں پرعزم ہیں کہ کوئی بچہ تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہیں رہے گا میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ فروغ تعلیم کے لئے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کریں گے اور مل جل کر بلوچستان سے جہالت کے اندھیرے ختم کرکے علم کی روشنیوں میں بدلیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں