عراقی قوانین میں ترمیم، 9 سالہ لڑکی سے شادی کی اجازت پر غور شروع

بغداد(این این آئی)عراق کی جانب سے شادی کے قوانین میں ترمیم کی خبروں نے تنازع کھڑا کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے رپورٹ عراق میں مردوں کو 9 سال کی لڑکیوں سے شادی کی اجازت دی جائے گی، جس کے بارے میں سماجی کارکنان کا کہناتھا کہ ترمیم سے خواتین کے حقوق واپس، ملک میں کم عمری کی شادیوں میں اضافہ ہوگا۔ عراق ملک کے شادی کے قانون میں قانونی ترامیم منظور کرنے کے لیے تیار ہے جس کے تحت مردوں کو نو سال جیسی کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔خواتین کو طلاق، بچوں کی تحویل اور وراثت کے حق سے محروم کرنے کے لیے بھی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔یہ بل شہریوں کو خاندانی معاملات پر فیصلہ کرنے کے لیے مذہبی حکام یا سول عدلیہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی بھی اجازت دے گا۔حکومت کا مقصد لڑکیوں کو غیر اخلاقی تعلقات سے بچانے کی کوشش میں مجوزہ ترمیم کو منظور کرنا ہے۔ قانون میں دوسری ترمیم 16 ستمبر کو منظور کی گئی۔اس اقدام کے بعد مخالفین نے خواتین کے حقوق کو پامال کرنے کی کوششوں پر حکومت اور ارکان پارلیمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں