پی ٹی آئی احتجا ج ، قافلہ کٹی پہاڑی پہنچ گیا،کارکنا ن پر شلینگ شروع

اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈیسک)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احتجاج کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پشاور سے نکلنے والا قافلہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ کٹی پہاڑی پہنچ گیا ہے۔پی ٹی آئی کارکنوں کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے شدید شلینگ جاری ہے جبکہ کارکنان نے شلینگ سے بچنے کے لئے پارٹی پرچم سے منہ کو لپٹ لیا۔متعدد کارکنان حفاظتی ماسک پہنے اسلام آباد کی جانب پیدل گامزن ہیں۔ علاوہ ازیں پولیس کے خلاف کارکنوں نے نئی حکمت عملی اپناتے ہوئے پہاڑی پر چڑھ کر پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کردیا۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی نے احتجاجی ریلی سے قبل کہا تھا کہ کئی ہزار کارکنوں پر مشتمل ایک فرنٹ لائن اسکواڈ ہوگا جو پولیس کے شلینگ کو غیر موثر بنانے کے لیے کام کرے گا لیکن ایسا کوئی اسکواڈ نظر نہیں آرہا۔تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے قافلے اسلام آباد کے قریب پہنچ چکے ہیں اور کچھ دیر میں وہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں داخل ہو جائیں گے۔دوسری طرف پولیس اہلکاروں نے پتھروں کا بڑا ذخیرہ 26 نمبر چونگی پر جمع کرلیا جبکہ 26 نمبر چونگی پر رینجرز الرٹ اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ ادھر فیض آباد پُل پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، پولیس اہلکاروں سے بندوقیں لے کر غلیلیں فراہم کر دی گئیں۔ذرائع کے مطابق مظاہرین کے خلاف آنسو گیس، ربڑ بلٹس، اینٹی رائٹ آلات استعمال کیے جائیں گئے، پولیس ٹیموں نے پتھر تھیلوں میں بھر کر ساتھ رکھے ہیں۔ پنجاب پولیس کی نفری بھی 26 نمبر چونگی پہنچ گئی جبکہ قیدی وینز بھی 26 نمبر چونگی پہنچا دی گئی۔اسلام آباد میں 26 نمبر چونگی پر رینجرز کو بھی الرٹ کردیا گیا، رینجرز کے اہلکار 26 نمبر فلائی اوور پر پہنچ گئے۔اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں صوابی سے نکلنے والا قافلہ رواں دواں ہے تاہم قافلہ ابھی تک اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ امکان ظاہر کی جارہا تھا کہ قافلہ آج دوہہر 12 بجے تک اسلام آباد میں داخل ہو جائے گا۔ قافلے میں ہزارہ کے کارکنوں کی شمولیت کے بعد رفتار سست ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ امین گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کا قافلہ پیر کی صبح ہرو پل سے روانہ ہوا۔ اس سے پہلے غازی بروتھاپل کو کئی گھنٹوں کی مزاحمت کے بعد عبور کیا گیا۔پی ٹی آئی کارکنوں نے ہزارہ انٹرچینج کے قریب لگے کنیٹنرزبھی ہٹا دیئے۔ہرو پل سے روانگی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا قافلہ برہان کے قریب پہنچا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق قیادت علی امین کررہے ہيں تاہم بشریٰ بی بی کی گاڑی ان کے پیچھے ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے پلان کے تحت پیش قدمی کر رہی ہے، حکومت کے پاس گھڑیاں ہیں لیکن وقت ہمارے پاس ہے۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں۔انھوں نے وفاقی حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’حکومت مطالبات پورے ہونے کے بغیر پی ٹی آئی احتجاج کے خاتمے کا نہ سوچے۔‘خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اتوار کی سہہ پہر پشاور سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے والا پی ٹی آئی کا قافلہ صبح 8 بجے موٹروے پر ہروپل کے مقام پر موجود تھا۔اس قافلے کے ساتھ موجود پی ٹی آئی کے ضلعی صدر عرفان سلیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پی ٹی آئی کے کارکنان ہروپل کے ریسٹ ایریا میں موجود ہیں جہاں سے یہ قافلہ کچھ دیر بعد اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔عرفان سلیم نے بتایا کہ پشاور سے روانگی کے بعد انہیں غازی بروتھا پل اور ہزارہ ایکسپریس وے سے پہلے ایک پہاڑی مقام پر سب سے زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ اگر برہان انٹرچینج اور کٹی پہاڑی کے مقام پر انھیں زیادہ رکاوٹوں کا سامنا نہ کرنا پڑا تو وہ آج دوپہر 12 بجے تک اسلام آباد میں داخل ہو جائیں گے۔جب عرفان سلیم سے سوال کیا گیا کہ اس قافلے میں کتنے لوگ ہیں تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ تقریباً 40 ہزار افراد موجود ہیں۔تاہم پوری کوشش کے باوجود سہ پہر تین بجے تک قافلہ کٹی پہاڑی تک ہی پہنچ سکا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر حکومت نے اسلام آباد کے راستے بند کر دیے ہیں اور دارالحکومت کو جانے والے زيادہ تر راستوں پر کنٹیرز کھڑے کر دیے گئے ہیں۔چھبیس نمبر چُنگی کنٹینر لگا کر مکمل سیل کر دی گئی ہے جبکہ سری نگر ہائی وے بھی زیرو پوائنٹ کے مقام پر بند کر دی گئی ہے۔ایکسپریس وے بھی کھنہ پل کے مقام پر دونوں طرف سے بند کر دی گئی ہے، کھنہ پل پر رکھے گئے ایک کنٹینر میں آگ بھڑک اٹھی تاہم اس کی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔ ایئر پورٹ جانے والے راستے پر بھی کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ فیض آباد سے اسلام آباد کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں