کمشنر کوئٹہ کی مصور خان کے اغوا کو قدرتی آفات سے مرنے والوں بچوں سے تشبیہ دینا حکومتی غفلت اور بےحسی کی دردناک مثال ہے ،جے یو آئی

کوئٹہ(یو این اے )جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے ترجمان نے کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات کی آغوا کے گئے دس سالہ مصور خان کاکڑ کے اغوا پر احتجاج کرنے والوں کی جدوجہد کو قدرتی آفات سے مرنے والوں بچوں کے ساتھ مثال دینے کی گفتگو کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کمشنر کوئٹہ کی جانب سے کی گئی غیر ذمہ دارانہ گفتگو نہ صرف مصور خان کاکڑ کے خاندان کی دل آزاری کا باعث ہے بلکہ انسانی المیے کے متعلق حکومتی غفلت اور بیحسی کی دردناک مثال ہے ۔ جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کمشنر کوئٹہ کی بچگانہ اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔یہ گفتگو ہر اس شخص کے لیے تکلیف دہ ہے جو ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات اور سماجی مسائل جیسے اغوا کے واقعات دونوں ہی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، اور دونوں پر مناسب توجہ دینا حکومت اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔ ایسے بیانات عوام کے جذبات کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ مسائل کو نظرانداز کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو کہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ایک سرکاری ذمہ دار کو چاہیے کہ وہ مصور خان کاکڑ کی بازیابی کا حل نکالنے پر توجہ دے، نہ کہ عوامی احتجاج کو تنقید کا نشانہ بنائے۔مصور خان کاکڑ جیسے معصوم بچوں کے اغوا کے واقعات نہایت گہری تشویش کا باعث ہیں، اور ان پر عوام کی جانب سے احتجاج ان کے انصاف کے لیے ایک حق بجانب مطالبہ ہے۔ اس طرح کے بیانات متاثرہ خاندانوں کی تکلیف میں مزید اضافہ کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ حکام ان کے دکھ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ ایسے حساس مواقع پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ کمشنر کو اپنی گفتگو پر معافی مانگ کر اپنی گفتگو سے رجوع کرناچاہیے اور ایسے مسائل کے حل کے لیے مثر اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرانی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں