جنوبی کوریا، صدر کے مواخذے پر ہفتے کو ووٹنگ، ’بغاوت‘ کے الزام میں تحقیقات شروع

جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول جمعرات کے روز بھی اقتدار میں ہیں اور ان کی جماعت نے اعلان کیا ہے کہ وہ مواخذے کی تحریک کی متحد ہوکر مخالفت گی، یون کے مارشل لا کے نفاذ نے دنیا کو حیران کر دیا تھا۔جنوبی کوریا کی پولیس نے بھی جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ وہ یون کے خلاف ’بغاوت‘ کے الزام میں تحقیقات کر رہی ہے جو کہ ایک ایسا جرم ہے جو صدارتی استثنیٰ سے تجاوز کرتا ہے اور اس میں موت کی سزا ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے منگل کی رات دیر گئے سویلین حکمرانی کو معطل کر دیا تھا اور پارلیمنٹ میں فوج اور ہیلی کاپٹر تعینات کیے تھے تاکہ قانون ساز اس اقدام کو مسترد کر کے احتجاج اور ’ڈرامائی رات‘ میں انہیں یو ٹرن لینے پر مجبور نہ کر سکیں۔ سیئول کے اتحادیوں کو اس بات کا علم ٹیلی ویژن کے ذریعے ہوا اور حزب اختلاف نے فوری طور پر مواخذے کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر یون نے آئین اور قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔300 رکنی مقننہ میں حزب اختلاف کو بھاری اکثریت حاصل ہے اور مواخذے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے یون کی پیپلز پاور پارٹی (پی پی پی) سے اسے صرف مٹھی بھر ارکان کی ضرورت ہے۔تاہم جمعرات کو پیپلز پاور پارٹی کے رہنما ہان ڈونگ ہون نے کہا کہ انہوں نے یون سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ’غیر آئینی مارشل لا‘ کی وجہ سے پارٹی چھوڑ دیں لیکن وہ مواخذے کی تحریک کو روکیں گے۔قومی اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر چو کیونگ ہو نے کہا کہ پیپلز پاور پارٹی کے تمام 108 قانون ساز صدر کے مواخذے کو مسترد کرنے کے لیے متحد رہیں گے۔ریئل میٹر کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کیے گئے ایک نئے سروے کے مطابق جنوبی کوریا کے 73.6 فیصد شہریوں نے صدر یون کے مواخذے کی حمایت کی ہے، آج رات یون کے خلاف مزید مظاہرے بھی متوقع ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں