26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر جے یو آئی کے ساتھ ہاتھ ہو گیا، کامران مرتضی

کوئٹہ(یو این اے )جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کے سینئر رہنما اور سینیٹر کامران مرتضی نے 26 ویں آئینی ترامیم کے معاملے پر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ "ہاتھ ہو گیا” ہے حکومت نے انہیں 26 ویں آئینی ترمیم کے معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا اور اس کی اہمیت کو کم کر دیا 26 یہ معاملہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، اور انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے ساتھ اس ترامیم کے سلسلے میں ناپسندیدہ رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس ترامیم کو پاکستان میں مدرسوں کی رجسٹریشن اور دیگر اصلاحات کے حوالے سے اہم سمجھا جا رہا تھا، حکومت نے اس معاملے پر جے یو آئی کی توقعات کے برعکس قدم اٹھایا ہے ان خیالات کا اظہارانہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کے حوالے سے حکومت کی جانب سے جے یو آئی کے موقف کو نظر انداز کرنے کے بعد، ان کا موقف یہ ہے کہ مستقبل میں حکومت سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کے اور دیگر مذہبی جماعتوں کے تحفظات کو اہمیت نہیں دی، جس سے ان کی جماعت میں حکومت کے ساتھ تعلقات میں تنا آیا ہے کامران مرتضی نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ بلاول بھٹو نے مدرسہ رجسٹریشن بل کے معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے وعدہ کیا تھا کہ اس بل کو واپس لیا جائے گا تاکہ مدارس کے انتظامات اور رجسٹریشن کے عمل میں آسانی پیدا ہو سکے، تاہم اس وعدے کے بعد وہ بل واپس لینے کی خبروں کے بعد ایک نئی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ صدر مملکت آصف زرداری نے مدرسہ رجسٹریشن بل پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ غیر معمولی بات ہے اور وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ آیا صدر مملکت خود اس بل پر دستخط کرنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں یا کسی کے دبا کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔ کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی یقین دہانی کے بعد اس بل کی واپسی کی خبر منظر عام پر آئی تھی، لیکن اب اس کے پیچھے کسی "شرارت” کا خدشہ محسوس ہو رہا ہے جے یو آئی کے موقف میں کوئی ابہام نہیں ہے ان کی جماعت اس بل کے ذریعے مدارس کو حکومت کے زیر اثر لانے کے کسی بھی اقدام کے مخالف ہے، اور اگر حکومت نے اس بل کو واپس نہ لیا تو ان کی جماعت کی حکومت کے ساتھ کسی بھی سطح پر تعاون کی توقع نہیں رکھی جا سکتی

اپنا تبصرہ بھیجیں