نقد رقوم کے اسمگلروں کو ایئر پورٹ پر پکڑوانے والا جاسوس کتا

یہ ایک عام سی کہاوت ہے کہ پیسہ بولتا ہے۔ لیکن اب اس محاورے کو جزوی طور پر بدلا جا سکتا ہے: پیسے کی بو بھی ہوتی ہے۔ اس کا ثبوت جرمن شہر فرینکفرٹ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والا کسٹمز کا ایک جاسوس کتا بھی ہے۔

بیلجیئن شیفرڈ نسل کے اس کتے کی عمر نو سال اور نام آکی ہے۔ یہ کتا اپنا کام کا اتنا ماہر ہے کہ اس نے چند روز کے اندر اندر اس جرمن ایئر پورٹ سے سفر کرنے والے 12 ایسے مسافروں کی نشاندہی کر دی، جو نقدی کی صورت میں لیکن غیر قانونی طور پر کُل تقریباایک چوتھائی ملین یورو یورپی یونین سے باہر اسمگل کرنا چاہتے تھے۔

یورپ کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والے فرینکفرٹ انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے کسٹمز آفس کی طرف سے بدھ بارہ اگست کے روز بتایا گیا کہ آکی نے جون کے اواخر سے لے کر جولائی کے اوائل تک محض چند روز میں ایک درجن ایسے مسافروں کو پہچان لیا، جو دو لاکھ 47 ہزار یورو سے زائد کی رقوم (تقریبا دو لاکھ نوے ہزار ڈالر) غیر اعلانیہ طور پر یورپی یونین سے باہر کے کسی ملک لے جانا چاہتے تھے۔

جرمن کسٹمز حکام نے ان مسافروں کو روک کر ان کے پاس موجود نقد رقوم اس لیے ضبط کر لیں کہ یورپی یونین کے قوانین کے مطابق کسی بھی مسافر کے لیے لازمی ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے ساتھ دس ہزار یورو یا اس سے زائد کی رقوم لے کر یورپی یونین سے باہر کے کسی ملک جا رہا ہو، تو وہ کسٹمز حکام کو خود اس کی اطلاع کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں