بلدیات میں محکمانہ بھرتیوں کی منظور ی،بلوچستان کے ساتھ بھلائی کرنے کے لیے نظام اور طریقہ کار کو بہتر بنانا ہوگا،جام کمال
کوئٹہ:۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ فیز ون کو کوئٹہ سمارٹ سٹی فیز ٹو میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے جو پاکستان کا پہلا سمارٹ سٹی پروجیکٹ ہوگا اور ڈیجیٹل کوئٹہ کے طور پر ڈیجیٹیلائزڈ سیکیورٹی کے امور کی انجام دہی کرے گا، کابینہ نے سیف سٹی پروجیکٹ فیز ون کو بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ کی سفارش کی روشنی میں بی پیپرا قواعد سے مستثنیٰ کرنے کی منظوری بھی دی، کابینہ نے کریمنل پروسیجر 1898ء بلوچستان ترمیمی بل 2020ء کے مسودہ کی منظوری بھی دی جس کا مقصد سول انتظامیہ کو عوامی امور سے نمٹنے کے لئے اختیارات کی فراہمی ہے،کابینہ نے محکمہ معدنیات کے تحت مائنز لیبر ویلیفیئر آرگنائزیشن کے زیر انتظام سکولوں کے 219اساتذہ کی اپ گریڈیشن کی منظوری بھی دی، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سیکریٹری معدنیات کو ان 29سکولوں کو چھ ماہ کے اندر ماڈل طرز پر معیاری بنانے کی ہدایت کی، کابینہ نے بی واسا کے بائی لاز کی منظوری بھی دی جبکہ واسا حکام کو واسا کے تحت نکاسیء آب کے نظام کے لئے علیحدہ بائی لاز پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، کابینہ نے کوئٹہ شہر میں ٹیوب ویلوں کی تنصیب کو واسا کے این او سی سے مشروط قراردینے سے اتفاق کیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ نے مہنگے داموں پانی فراہم کرنے والے ٹینکر مافیا کے خلاف کاروائی کرنے اور واسا کے وسائل میں اضافہ کے لئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ پانی کی فراہمی نکاسیء آب کے نظام کی بہتری اور شہر کی ترقی کے ذمہ دار تمام اداروں کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اس حوالے سے انہوں نے متعلقہ اداروں کا اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی جس کی وہ خود صدارت کریں گے، کابینہ نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو بورڈ آف ریونیو سے علیحدہ کرکے ایک انتظامی محکمے کا درجہ دینے کے لئے بلوچستان گورنمنٹ رولز آف بزنس 2012ء میں ترمیم کی منظوری بھی دی، کابینہ نے چیئرمین بلوچستان انوائرمینٹل پروٹیکشن ٹریبونل کے چیئرمین کی مدت ملازمت میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری دی، صوبائی کابینہ نے احساس ایمرجنسی کیش ٹرانسفر پر بینکوں کے کمیشن پر عائد سیلز ٹیکس کے ایک مرتبہ استثنیٰ، وزیراعظم ریلیف فنڈ میں ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے فنڈ ریزنگ پر عائد سیلز ٹیکس کے استثنیٰ اور اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک کی جانب سے چمن کے راستے افغانستان کو فراہم کی جانے والی خوراک کو بلوچستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر استثنیٰ دینے کی منظوری بھی دی، کابینہ نے اندرونی سیکیورٹی کے لئے ایف سی بلوچستان کی ریکوزیشن کی مدت میں 31دسمبر 2020ء تک توسیع کی منظوری دی، کابینہ نے محکمہ زراعت کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اسٹیٹسٹکس) بی۔17کی اسامی کو اپ گریڈیشن کمیٹی کی سفارش پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر (اسٹیٹسٹکس) بی۔18 اپ گریڈ کرنے کی منظوری بھی دی جبکہ کورونا وائرس کی ایمرجنسی کے تناظر میں ٹرژیری کیئر ہسپتالوں میں ایڈہاک کی بنیاد پر سٹاف نرسوں بی۔16 کی بھرتی کی منظوری بھی دی، کابینہ نے تربت، خضدار،لورالائی اور سبی میں محکمہ داخلہ کے زیرانتظام ریکلیمیشن اور پروبیشن دفاتر کے قیام، پی ایس ڈی پی 2021میں نئے انٹرکالجز کے قیام کے منصوبہ میں اضلاع کے ناموں کی تصحیح اور محکمہ تعلیم کے پی ایس ڈی پی میں شامل بعض منصوبوں کے نومنکلیچر کی تصحیح کی منظوری بھی دی، کابینہ نے محکمہ بلدیات میں خالی اسامیوں پر محکمانہ ریکروٹمنٹ کمیٹی کے ذریعہ بھرتی کی منظوری بھی دی، کابینہ نے محکمہ توانائی کی جانب سے توانائی کے متبادل ذرائع کی ترقی کے سرمایہ کار منصوبوں کے لئے جاری کئے گئے اظہار دلچسپی کے مراسلوں کی میعاد میں توسیع کرنے کی منظوری بھی دی، کابینہ نے بلوچستان پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشن رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس 2020ء کا جائزہ لیتے ہوئے وزیرتعلیم کی سربراہی میں کابینہ کی سب کمیٹی کی تشکیل کافیصلہ کیا جو آرڈیننس کے مسودہ کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کابینہ صوبے کا سب سے اہم اور بڑا فورم ہے جس میں اہمیت کے حامل پالیسی فیصلے کئے جاتے ہیں، لہٰذا اس تناظر میں صوبے کے اچھے اور برے کے ہم خود ذمہ دار ہیں، اگر ہم نے بلوچستان کے ساتھ بھلائی کرنی ہے تو پھر اپنے نظام اور طریقہ کار کو بہتر بنانا ہوگا اور صوبے اور یہاں کے عوام کے مفادات کو ہر چیز سے مقدم رکھنا ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں میں صوبے میں یونیورسٹیوں اور یونیورسٹی کیمپسز میں اضافہ ہوا ہے جس سے نوجوانو ں کو بہتر تعلیم کے مواقع مل رہے ہیں اور پڑھے لکھے نوجواں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، ہم نے اپنے ان پڑھے لکھے نوجوانوں کو بہتر مستقبل دینے کی منصوبہ بندی کرنا ہے اور نوکریوں میں میرٹ اور صلاحیت کو فروغ دینا ہے تاکہ حقدار نوجوانوں کو ان کا حق مل سکے


