بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگریکلچرل انکم ترمیمی بل منظور
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں منگوچر اور خانوزئی میں شہید ہونے والے لیویز اہلکاروں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس 25 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ اور ان کی جماعت کے اراکین نے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاجا ایوان سے واک آٹ کیا۔صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے محکمہ بورڈ آف ریونیو کی رپورٹ پر بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگریکلچرل انکم ترمیمی مسودہ قانون 2024 پیش کیا، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔اسی طرح، بلوچستان کے ٹرانسپورٹروں کو پنجاب کی حدود میں مشکلات کا سامنا کرنے کے خلاف صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے ایک قرارداد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے زیادہ تر لوگ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں، لیکن جب ان کے ٹرک پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو بواشہ سے لے کر ڈیرہ غازی خان تک مختلف چیک پوسٹوں پر انہیں غیر ضروری طور پر روکا جاتا ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے بلوچستان سے بھیجے جانے والے پھل، سبزیاں اور کوئلہ خراب ہو جاتا ہے، جس سے نہ صرف ٹرک مالکان بلکہ ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس اور کسٹم کی بلاوجہ سختیوں کے باعث متعدد ٹرانسپورٹرز نے اپنے ٹرک بند کر دیے ہیں، جس سے صوبے میں بیروزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے جو اس مسئلے کو وفاقی اور پنجاب حکومت کے سامنے رکھے۔ ایوان نے یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔اجلاس میں خاتون رکن صوبائی اسمبلی فرح عظیم شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد صوبے کی خدمت کے لیے ہے اور عوامی مسائل پر سب کو متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ معاشی عدم استحکام ہے، اور اس کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔وزیر اعلی نے ایوان میں امن و امان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کو اس حوالے سے ایک واضح روڈ میپ دینا ہوگا اور امن و امان کے مسئلے پر ان کیمرہ اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی دیگر صوبائی اسمبلیوں سے مختلف ہے اور یہاں کے مسائل کا حل بھی مقامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر نکالنا ہوگا۔


