نظام شمسی میں چھپے ایک سمندر کو دریافت کرلیا گیا

یہ بونا سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان واقع سیارچوں کی پٹی میں واقع ہے اور خلائی مشن ڈان نے 2018 میں ایندھن ختم ہونے 3 سال قبل وہاں جانچ پڑتال کی تھی۔

ایک موقع پر یہ خلائی مشن اس چھوٹے سیارے کی سطح سے 22 میل اوپر تک پہنچ گیا تھا اور سائنسدانوں کی جانب سے اب تک جمعع ہونے والے ڈیٹا پر کام کیا جارہا ہے۔

ڈان کی مدد سے محققین کو یہ جاننے میں مدد ملی کہ یہ روشن مقامات سوڈیم کاربونیٹ نامی مرکب سے ڈھکے ہوئے ہیں جو کہ سوڈیم، کاربن اور آکسیجن سے بنتا ہے۔

مگر یہ سیال کہاں سے آیا یہ رواں ہفتے تک ایک اسرار تھا اور اب تحقیقی مقالوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس بونے سیارے کی سطح پر کھارا پانی کا ذخیرہ سطح کے نیچے چھپا ہے جو کہ 25 میل گہرا اور سیکڑوں میل چوڑا ہے۔

سیرس کے ساتھ ساتھ مشتری کے برفانی چاند یوروپا اور زحل کے برفانی چاند انسلادوس میں بھی سطح کے اندر سمندروں کو دریافت کیا گیا ہے اور وہاں زندگی کے آثار ملنے کی امید کی جارہی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق سیرس میں ملنے والا میٹریل انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ منرلز زندگی کے ابھرنے کے لیے ضروری ہیں۔

ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ارگرد موجود سیارچوں کے اثر کے نتیجے میں یہ بونا سیارہ اس حد تک گرم ہوگیا تھا جو سیال پانی کو سطح کے نیچے برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے، مگر پھر درجہ حرارت کم ہونے سے وہ منجمد ہوگیا۔

ناسا کے منتظم جم برائیڈنسٹین نے ٹوئٹر میں کہا کہ دیگر دنیاؤں میں زندگی کے امکانات بڑھ رہے ہیں، سیرس ہمارے نظام شمسی کا تازہ ثبوت ہے جہاں ماضی میں زندگی کے قابل ماحول موجود تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں