ملک کو ایک نیا میثاق جمہوریت اور میثاق معاشیات دینا چاہیے ،سعدرفیق

لاہورۛ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آج پاکستان کی عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے یہ قوموں کے لئے زہر ہے ،گالیاں دے اور مخالفین کو جیلوں میں ٹھونس کر کچھ حاصل نہیں کرسکتے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھے گا،آپس میں لڑ نے سے نفاق پیدا ہوگا،افواج پاکستان اکیلی دفاع نہیں کرسکتی ،افواج ،پارلیمنٹ اور عدالت مضبوط ہوں،ملک سیاستدانوں نے چلانا ہے ،پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کو ئی نظام نہیں چل سکتا،ملک کو ایک نیا میثاق جمہوریت اور میثاق معاشیات دینا چاہیے ،تحریک انصاف کو بھی میثاق پر دستخط کرنے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام یوم پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان کو بنے پون صدی گزر گئی ہے، جب پاکستان بنا تو لٹے پٹے قافلے پاکستان آئے تھے،ریڈ کلف ایوارڈ کے تحت کشمیر کو پاکستان سے کاٹا گیا،گورداسپور کو بھی کاٹا گیا،اس وقت کی سپر پاور نے یہ سازش کی تھی ،آج آٹھویں دہائی شروع ہوچکی ہے اب بھی اس وقت کی اور آج کی سپر پاور کی سازشیں کم نہیں ہوئیں بلکہ بڑھ گئی ہیں،ہم نے بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنی منزل کو حاصل نہیں کرسکے وہ منزل جس کے لئے ہمارے آبا ئو اجدادنے قربانیاں دی ،پاکستان بنا نے کے لئے لاکھوں کوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں،ہم سے وعدہ کیا گیا کہ ہم اسلام کے اصولوں پر ویلفیئر اسٹیٹ بنائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوااس نے ہمیں منزلیں مراد سے دور کردیا ہے ،کبھی مذہبی کارڈ کبھی غدار اورآجکل کر ایکدوسرے کو چور قرار دے رہے ہیںا،س طرح قومیں آگے نہیں بڑھتیں،گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا چاہیے ،پاکستان ایک قدم آگے جاتا ہے تو دو قدم پیچھے آ جاتا ہے ،آج پاکستان کی عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے یہ قوموں کے لئے زہر ہے ،گالیاں دے کر اورمخالفین کو جیلوں میں ٹھونس کر کچھ حاصل نہیں کرسکتے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھے گا،آپس میں لڑ نے سے نفاق پیدا ہوگا،افواج پاکستان اکیلی دفاع نہیں کرسکتی ،افواج ،پارلیمنٹ ،عدلیہ مضبوط ہوں،ملک سیاستدانوں نے چلانا ہے ،پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی نظام نہیں چل سکتا،موروثی سیاست کو ختم ہونا چاہیے ہر کوئی یاد رکھے کہ وہ تاریخ کا حصہ بنا ہے ،مورخ لکھ دے گا کہ کون کتنا خوبصورت تھا،ملک دھکا شاہی سے نہیں چل سکتا،ہم مستقبل کی آنے والی نسلوں کو کیا کمزور پاکستان دیں گے ۔ا نہوںنے کہا کہ انصاف کو آزاد ہونا چاہیے ،آج اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا،کیا ہم سچ کا ساتھ دے رہے ہیںکیا ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں کیا ہم پاکستان کو آگے لیجانے کے لیے قومی ایجنڈا ء لا سکتے ہیں،پاکستان کو آگے لیجانے کے لیے نفرتوں کو ختم کرنا ہوگا،جو بے چینی پھیل رہی ہے اس کو ختم کرنا ہوگاہم نے اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دینا۔انہوں نے کہا کہ سب سے ذیادہ ظلم ہماری جماعت سے ہوا ہے اس کو روکا جائے یہ ہمیں کہیں لیکر نہیں جائے گا،یہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے ،ہر طرف اب یہ سوچ پیدا ہورہی ہے کہ راستہ نکالنا چاہیے ،ملک میں بھوک بے روز گاری بڑھ گئی ہے ،مسلم لیگ (ن)کے منصوبوں پر تختیاں لگا کر افتتاح کر رہے ہیں،ایم ایل ون پر ہم نے کام کیا،ہم چاہتے ہیں کہ بھلے آپ تختیاں لگائیں پر ادھورے منصوبے ضرور پورے کریں،منصبوں کی لاگت بڑھگئی ہے ،ملک کو ایک نیا میثاق جمہوریت اور میثاق معاشیات دینا چاہیے ،تحریک انصاف کو بھی میثاق پر دستخط کرنے چاہئیں۔انہوںنے کہا کہ احتساب کا چورن بند ہونا چاہیے ،ایک ہی اگر راستے پر چلتے رہے تو تلخی اور نفرت بڑھے گی ،مسلم لیگ (ن)کے ورکر گالی کھا لیں لیکن جواب نہ دیں،یہ ہمارا کلچر نہیں،اپنے مخالفین کی بات کو سنیں۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے اس کو پہنچانا چاہیے ،انصاف کو کوئی زنجیر نہ پہنائی جائے ہم اپنے موقف پر قائم رہیں گے اس میں وقت لگتا ہے لیکن حاصل ضرور ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں