مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے ذریعے وفاق خود اور عالمی طاقتوں کو وسائل پر قابض کرنے جارہا ہے، مولانا فضل الرحمن
پشاور (آن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز بل صوبے کے وسائل پر حملہ ہے، وفاق نہ صرف بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی صوبائی وسائل پر قا بض کرنے جا رہا ہے ۔ حکومت ہوش کے ناخن نہیں لیتی تو پھر ہمیں عوام میں جانا ہوگا۔ 17 مارچ کو اسرائیل مردہ باد ریلی نکالنے کا بھی اعلان کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز بل صوبے کے وسائل پر حملہ ہے، آج پھر ایک ایساقانون صوبوں سے پاس کرایا جارہا ہے جو وسائل پرقبضہ ہے، اگر حکومت ہوش کے ناخن نہیں لیتی تو پھر ہمیں عوام میں جانا ہوگا، اور عوام اپنے حق کے تحفظ کے لیے میدان میں نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ وفاق کو خود بھی یہ سوچنا چاہیے کہ آئین کے منافی کسی قسم کا بل اسمبلیوں میں نہیں لایا جائے، سوچنا چاہیے کہ آئین محترم ہے، اس کی حرمت کا تقاضا ہے کہ کوئی قانون اس کی روح کی نفی نہ کرے، جے یو آئی کو 18 ویں ترمیم میں کوئی تبدیلی منظور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نہ صرف خود بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی صوبے کے وسائل پر قابض کرنے جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے اختیارات پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ہم نہ بین الاقوامی قوتوں کو اپنے وسائل کا مالک بنائیں گے، اور نہ ہی وفاقی حکومت کو اس کا مالک بنائیں گے، طریقہ کار ہوتا ہے ، صوبے کاا ختیار اپنی جگہ برقرار ہے ، اگر کوئی کاروبار کرنا ہے تو صوبے کے ساتھ کیا جائے، وسائل اور شرائط صوبے کی ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو حکومت پاکستان کی وساطت سے کرے مگر صوبائی حکومت کی شرائط کے ساتھ کرے، ہمارے مفادات محفوظ ہونے چاہیئں، اور ہمارے وسائل ہمارے قبضے میں ہونے چاہیئں انہوں نے دعوی کیا کہ فاٹا انضمام کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ تھی اور اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے بیرونی قوتیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی کا انضمام کرلیا گیا لیکن معدنیات میں قبائل جیسی صورتحال بنائی جارہی ہے، جب مفاد ہو تو قبائلی علاقے اور مفاد نہ ہو انضمام کی بات کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کا جبری انخلاءکیا جارہا ہے، یہ مسلہ 2017 میں اٹھا تھا جب یہاں سے مہاجرین کو واپس کیا گیا، ہم کٹیگری کی تجویز دی، پہلی کٹیگری وہ لوگ جو یہاں پڑھے، مہارت حاصل کی اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری کٹیگری تاجروں کی ہے اگر افغان تاجروں نے بنکوں سے پیسے نکال لیے تو بنک دیوالیہ ہوجائیں گے، تیسری کٹیگری طالب علموں کی ہے طالب علموں کی پڑھائی ختم نہ کی جائے، عام افغان مہاجرین 40 سال مہمان رہے، کیسے لات مار کر نکال سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو ملکر واپسی کا طریقہ اپنایا جائے، جس طرح افغانوں کو نکالا جارہا ہے اس طریقہ کار کا بین الاقوامی اداروں کو نوٹس لینا چاہئے، ہماری تجاویز کابینہ کے اجلاس میں پیش ہوئیں، کون اس ملک کو چلا رہا ہے کون فیصلے کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کیوں نااہل ہے جو طے ہوا اسے دوام نہیں بخش سکی، دوسروں کی غلطیاں سر پر نہیں تھوپنی چاہیے، صوبے میں اس وقت بدامنی ہے، سیاسی کارکنوں اور عام لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، جنوبی اضلاع میں حکومتی رٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کو کس کے ہاتھ چھوڑ دیا گیا ہے، مسلح گروہوں کے ہاتھوں کاروبار کوئی نہیں کرسکتا، 17 ہزار سرکاری ملازمین کو نکالا جارہا ہے، مرکزی کونسل کا اجلاس 19، 20 اپریل کو بتایا ہے۔ن کہنا تھا کہ 11 مئی کو منار پاکستان پر ملیں مارچ ہوگا، ہم حق کی جنگ لڑ رہے پیں، ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں پاکستان کے اندر رہ کر بات کریں گے، ہم پاکستان سے الگ ہونے کی بات نہیں کریں گے نہ آزادی کی بات کریں گے، ہم صوبے کے حق کی بات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جس نے غلطی کی اس حوالے سے تحقیق کررہے ہیں کارروائی ہوگی، مائنز اینڈ منرلز بل پر دوسری جماعتوں سے رابطہ کریں گے، تجارت ہونی چاہیے لیکن صوبے کے حقوق صوبے حق متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے 17 اپریل کو اسرا ئیل مردہ باد ریلی نکالنے کا بھی ا اعلان کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے بپرویز خٹک،۔محمود خان کو وزیراعلی بنایا وہ اب پی ٹی آئی کے ہیں یا کسی ادارے کے ہیں اس کا فیصلہ قوم خود کرے ۔


