زابد ریکی پر حملہ و چمن واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، متحدہ اپوزیشن

کوئٹہ: متحدہ اپوزیشن کے اراکین نے رکن صوبائی اسمبلی حاجی زابد علی ریکی پرمبینہ قاتلانہ حملہ اور چمن واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رکن اسمبلی پر پر قاتلانہ حملے میں ملوث نائب تحصیلدار کے خلاف 7ATAکے تحت مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے ، اسپیکر بلوچستان اسمبلی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے فوراً بلوچستان اسمبلی کا اجلاس طلب کرے تاکہ واقعہ سے متعلق قرار داد پیش کی جاسکے ، سرحدی علاقوں سے پٹرول اور ڈیزل لانے والوں سے جگہ جگہ ناکے لگا کر رقوم بٹورنے کا سلسلہ فوری طور پر ختم کرکے ان سے ایک بار قانونی طور پر ٹیکس لیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و جمعیت علماء اسلام کے رہنماء ملک سکندر ایڈووکیٹ ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے اور گوادر سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن چیمبر کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت کا اپوزیشن کے ساتھ گزشتہ 2سال سے رویہ دشمنی کا ہے ، نام نہاد جمہوریت میں اپوزیشن کے ساتھ روا رکھے گئے رویہ کی مثال بدترین جمہوریت میں بھی نہیں ملتی ، اپوزیشن اراکین کے حلقوںمیں حکمرانوں کی جانب سے مداخلت کیا جارہا ہے ، جمہوریت میں اپوزیشن کو ساتھ لے کر فیصلے کئے جاتے ہیں جبکہ ڈکٹیٹر شپ میں من مانی ہوتی ہے دوسروں کو کچلا نہیں جاتا ،موجودہ کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ روا رکھا جانے والی روئیے کی مثال دنیا میں کئی نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز متحدہ اپوزیشن کے معزز رکن و رکن صوبائی اسمبلی حاجی زابد علی ریکی پر ناگ میںنائب تحصیلدار نے لیویز اہلکاروں کے ساتھ مل کر قاتلانہ حملہ کیا اور ان پر فائرنگ کی تاہم خوش قسمتی اور اللہ کی مہربانی تھی کہ وہ بچ نکلے تاہم حکمرانوں نے تو انہیں جان سے مارنا تھا ۔ اس سے زیادہ ریاستی مشینری کی دہشت گردی کیا ہوگی ۔ حالت یہ ہے کہ ایک نائب تحصیلدار منتخب رکن صوبائی اسمبلی پر قاتلانہ حملہ کرتا ہے اپوزیشن حکمرانوں کے ایسے اوچھے ہتھکنڈے کسی صورت قبول نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ متحدہ اپوزیشن متحدرہ کر وہ سبق سیکھا سیکھتے ہیں کہ وہ یاد رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر حاجی زابد علی ریکی پر قاتلانہ حملے کرنے والوں کیخلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیںفوراً گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ عوامی نمائندوں کو آئین ، قانون اور عوام نے جو عزت دی ہے وہ محفوظ رہے ۔ انہوں نے کہا کہ زابد علی ریکی پر قاتلانہ حملے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے کیونکہ انتظامیہ مکمل طور پر جانبدار ہے ان کی تحقیقات سے انصاف کی توقع نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ پٹرول اور ڈیزل کے کاروبار سے وابستہ افراد کے ساتھ بدترین ظلم ہورہا ہے زابد علی ریکی نے بھی یہی کہا تھا کے ان سے ایک یا دو دو میل کے فاصلے پر ناکے لگا کر پیسے لئے جاتے ہیں بلکہ ہر ناکے کی اپنی ریٹ مقرر کی گئی ہے جو نہ صرف قوم کی ضمیر کو خریدنے کی ایک کوشش ہے بلکہ اس سے کرپشن کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے ۔ ہم نے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر قانونی طور پر ٹیکس لگایا جائے اور باقاعدہ کمپیوٹرائزڈ رسید کے ذریعے ان سے ٹیکس وصول کیا جائے ،دہشت گردی اور جرائم پیشہ افراد کی نقل و حرکت روکنے کے لئے بھی ناکے لگانے کے حق میں ہیں مگر صرف ڈیزل اور پٹرول کے کاروبار کرنے والوں سے پیسے بٹورنے کے لئے ناکے لگانا کسی صورت جائز نہیں بلکہ یہ غیر قانونی ، غیر آئینی ، غیر شرعی اور بلوچستان کے روایات کے خلاف عمل ہے ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے بھی زابد علی ریکی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لاء اینڈ آرڈر کو ختم کیا جارہا ہے صوبے کا کوئی کونہ ایسا نہیں ہے جہاں بدامنی نہ ہو اور کرپشن و بھتہ خوری کا سلسلہ جاری نہ ہو ۔ زابد علی ریکی پر سرکاری مشینری اور سرکاری لوگوں کی جانب سے حملہ افسوسناک ہے اس طرح کے واقعات سے ملک انارکی طرف جائے گا جس میں کوئی بھی پھر محفوظ نہیں ہوگا ۔ زابد علی ریکی پر حملے کی ذمہ داری کمشنر ، ڈپٹی کمشنر اور لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کنٹرول کرنے والوں پر عائد ہوتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بارڈرز کے علاقوں سے تیل سمیت دیگر اشیاء اور اجناس پاکستان میں آتے ہیں سرحدی علاقوں کے لو گوں کا روز گار بھی انہی ذرائع سے وابستہ ہے ان کے کاروبار کو قانونی حیثیت دی جائے ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے حاجی زابد علی ریکی پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معزز رکن صوبائی اسمبلی پر حملے اور چمن واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے بلکہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس طلب کرے تاکہ اس حوالے سے قرار داد اسمبلی میں پیش کی جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اب تک زابد علی ریکی پر حملے کی مذمت تک نہیں کی ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ واقعہ میں ملوث نائب تحصیلدار اور لیویز اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف انکوائری کے حکم دیتے مگر انہوںنے ایسا اب تک نہیں کیا ۔ انہوں نے اس سے پہلے چمن کا واقعہ رونما ہوا جس میں 6لاشیں گری ، بارڈر بند کرکے لوگوں پر کاروبار کے دروازے بند کئے گئے جو قابل مذمت اقدام ہے اور تو اور مقدمات بھی انہی لو گوں کے خلا ف چاق کئے گئے ہیں جو اپنے جا ئز مطا لبا ت کے لئے احتجاج کر رہے تھے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رکن صوبائی اسمبلی پر حملہ کرنے والے نائب تحصیلدار کے خلاف 7ATAکے تحت مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے ۔ اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی نے بھی واقعہ می مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں