انتخابات محض ڈرامہ، بلوچستان کی حکومت الیکشن سے پہلے نجی ہوٹلوں میں تشکیل دی جاتی ہے، مولانا واسع
کوئٹہ(این این آئی)امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے مدرسہ دارالعلوم حنفیہ حافظ آباد پوئی شریف سنجاوی زیارت کی سالانہ دستار فضیلت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام تمام دینی مدارس کو اپنے ادارے سمجھتی ہے اور ان کی خدمات کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم کے یہ مینار معاشرے کی روشنی کا منبع ہیں، اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے عملی طور پر سرگرم عمل ہے۔ جمعیت نے ہمیشہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کو اپس میں جوڑے رکھا ہے انھوں نے کہاں کہ من حیث الامت ہمیں آپس کے اختلافات کو بالاتر رکھتے ہوئے اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا وقت اور حالات کیلئے ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جبکہ عالم کفر اسلام کے خلاف ایک صفحے پر متحد ہے، امت مسلمہ کے لیے اختلافات ختم کر کے یکجہتی قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے بلوچستان کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت بے شمار مسائل سے دوچار ہے، جن کی بنیادی وجہ حقیقی نمائندگی سے محرومی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں کی حکومت عوام کی امنگوں کے برعکس، مرکز کی ملی بھگت سے تشکیل دی جاتی ہے، اور صوبے کی حکومت مرکزی جماعت اپنے مخالف جماعت کو تحفے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت الیکشن سے پہلے ہی نجی ہوٹلوں میں تشکیل دی جاتی ہے، جبکہ انتخابات کا ڈرامہ محض عوام کو دھوکہ دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ حکومت کو کارکردگی دکھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا گیا، لیکن بدلے میں عوام کو بدترین حکمرانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے صرف اشرافیہ کے مفادات کی تکمیل پر توجہ مرکوز رکھی، جبکہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جمعیت علمائے اسلام کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، صوبے میں گورننس کا بحران بڑھتا ہی رہے گا۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ ہمیشہ ناانصافی کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ صوبے کے وسائل پر عوام کے حق کی جنگ لڑی ہے اور اس کی سزا بھی بھگت رہے ہیں، لیکن اب جمعیت علمائے اسلام کھل کر میدان میں اترے گی اور کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے وسائل سے عوام کی محرومی کا حساب لیا جائے گا اور ان کے حقوق کے لیے بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جمعیت کا پیغام بالکل واضح ہے کہ ہم کسی بھی صورت عوام کے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام ہی وہ جماعت ہے جو حقیقی معنوں میں عوامی مسائل کا حل نکال سکتی ہے اور صوبے کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔


