علم و ادب کے فروغ کیلئے کوشاں دامن شاشان پبلک لائبریری گریشہ کو حکومت فنڈ فراہم کرے، کمیٹی ترجمان
خضدار (پ ر) دامن شاشان پبلک لائبریری گریشہ کمیٹی کے ترجمان نے اپنے بیان میں لائبریری کی موجودہ سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دامن شاشان پبلک لائبریری جو کہ گریشہ جیسے پسماندہ علاقے میں تعلیم، علم اور مطالعے کو فروغ دینے کا ایک اہم اور نمایاں مرکز ہے، اس وقت شدید مالی مشکلات اور حکومتی عدم توجہ کا شکار ہوچکی ہے۔ ترجمان نے اپنے بیان میں بتایا کہ مالی سال 2025-26ءکے بجٹ کی تیاری سے قبل ہی لائبریری کمیٹی نے ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر بلوچستان کی تمام علاقائی، سیاسی جماعتوں، سیکرٹری کلچرل، ٹورازم اینڈ آرکائیو ڈیپارٹمنٹ حکومت بلوچستان اور قائداعظم پبلک لائبریری کوئٹہ کے چیف لائبریرین اور ضلعی انتظامیہ ضلع خضدار کو تحریری طور پر اپنی گزارشات اور مطالبات پیش کئے تھے۔ ان میں دامن شاشان لائبریری کے لیے مالی امداد، بنیادی سہولیات میں بہتری اور علمی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مدد کی اپیل شامل تھی۔ گزشتہ سال 2024-25ءکے بجٹ میں بھی ہماری لائبریری کی سمری منظور نہیں کی گئی تھی۔ اس وقت بھی ہمیں جھوٹی تسلیوں سے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ علاقے کے نوجوانوں کو کتاب سے دور کرنے کی سازش کی جارہی ہے جس کی لائبریری کمیٹی بھرپور انداز میں مذمت کرتی ہے۔ ترجمان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام کوششوں کے باوجود نہ تو کسی حکومتی ادارے کی طرف سے کوئی جواب آیا اور نہ ہی سیاسی جماعتوں نے ان مسائل کو سنجیدگی سے لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ علاقے میں علم و ادب کے فروغ کو روکنے کے مترادف ہے۔ کمیٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت لائبریری بغیر کسی سرکاری معاونت کے صرف کمیٹی کے نمائندے اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے ہیں۔ لائبریری کے لیے عملہ، بنیادی سہولیات کی دستیابی، اور ضروری کتابوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوئی سرکاری بجٹ نہیں۔ اس وقت لائبریری کی چند ایک ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کمیٹی اپنی کوششوں میں لگی ہے تاکہ قارئین کو بہتر ماحول مل سکے لیکن ہماری یہ کوششیں عارضی ہے اور مستقبل کے لیے سرکاری بجٹ ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو لائبریری کے بند ہونے کی نوبت آ سکتی ہے، جس سے گریشہ اور آس پاس کے علاقوں کے سیکڑوں طلبہ، قارئین اور محققین متاثر ہوں گے۔ ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں سے بھرپور مطالبہ کیا کہ دامن شاشان پبلک لائبریری گریشہ کے لیے فوری طور پر بجٹ منظور کیا جائے اور اسے مستقل بنیادوں پر چلانے کے لیے مالی، انتظامی اور علمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ہمارے قارئین کو بہتر سہولیات مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کا حق رکھتے ہیں اور اس حوالے سے عوامی سطح پر آواز بلند کریں گے۔


