وزیراعلیٰ کو ہار پہنانے پر زابد علی ریکی کی رکنیت معطل، مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کریں گے، مولانا واسع
کوئٹہ (آن لائن) جمعیت علمااسلام کے صوبائی امیر وسینیٹر مولانا عبد الواسع نے کہا ہے کہ ہماری جماعت مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو عدالت میں چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ اسمبلی فلور اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر عوام کے ساتھ آواز اٹھائے گی بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر کو آگاہ کئے بغیر وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ہار پہنانے پر رکن اسمبلی میر زابد علی ریکی کی رکنیت معطل کردی جماعت کے خلاف بلوچستان کے عوام کے حقوق کے حصول اور صوبے کے مسائل کا سودا نہ کرنے کی پاداش میں گزشتہ 15 سالوں سے جماعت کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لئے منفی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے جس سے ہم مرعوب نہیں ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت کی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس کے دوران ہونے والے فیصلوںسے پیر کو اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، اراکین صوبائی اسمبلی حاجی غلام دستگیر بادینی، محمد نواز کبزئی، مولوی غلام سرورموسیٰ خیل، آغا محمود شاہ، مولوی کمال الدین، دلاور خان کاکڑ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا عبدالواسع نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جاتے ہیںحالانکہ جماعت کا بلوچستان میں ایک کلیدی اور اہم کردار ہے ہمارے 10 سالہ دور حکومت میں بلوچستان میں 7 سے 8 یونیورسٹیز 10 سے 15 کیڈٹ کالج بنانے کے علاوہ بڑی تعداد میں گرلز اور بوائز کالجز کے علاوہ ہسپتال بنانے کے ساتھ ساتھ صوبے میں سڑکوں، ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایااور ہم نے تاریخی این ایف سی ایوارڈ حاصل کرکے بلوچستان کے وسائل میں لا محدود اضافہ کیا اور ہماری کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بلوچستان کے حقوق کے حصول اور عوام کے مسائل کے حل صوبے کے ملکیتی وسائل جس میں ریکوڈک اورمائنز سمیت دیگر پر ہم نے کوئی سودے بازی اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ کیا جس کی پاداش میں ہمیں گزشتہ 15 سال سے اقتدار سے باہر رکھا گیا ہے اور ہر الیکشن میں ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا جس کا واضح ثبوت حالیہ انتخابات میں بلوچستان میں ہماری صوبائی اسمبلی کی 12 اور قومی اسمبلی کی متعدد نشستوں کو چرایا گیاانہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے چالاکی اور دھوکہ دہی سے کمیٹی میں دوسرا ڈرافٹ اور ایوان میں دوسرمائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے ڈرافٹ پیش کرکے اسے چالاکی سے پاس کرایا گیااس عمل میں تمام سیاسی جماعتوں کو اندھیرے میں رکھ کر مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کرایا گیاجس کے خلاف ہم عدالت سے رجوع کرنے کے علاوہ ایوان میں آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیکر اس کے خلاف موثر تحریک چلاکر آواز اٹھائیں گے تاکہ اسے منسوخ کرایا جاسکے جس طرح ہم نے پی ڈی ایم کی حکومت میں سینیٹ میںٰ اس قانون کو ختم کرایا اور اپنی شرائط پر تمام چیزوں کو ریسورس کرایا تھا انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے اعتماد اور صوبوں کے وسائل پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیاہمارامطالبہ ہے کہ ایف این سی ایوارڈ کو کروایا جائے کیونکہ آئین کے مطابق یہ ہر پانچ سال بعد کرانا لازمی ہے اور اس میں صوبوں کے مسائل بڑھتے ہیں ہم نے ماضی میں اپنی شرائط منواکر این ایف سی منظور کروایا تھا گزشتہ کئی سالوں سے این ایف سی نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کو نقصان اور دیگر صوبوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے کیونکہ وسائل کی تقسیم آبادی اور دیگر محاصل پر ہونی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو ختم کرنے کیلئے عدالت میں پٹیشن دائر کرنے کے ساتھ ساتھ اسمبلی فلور پر آواز اٹھائے گی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر عوامی عدالت میں بھی جائیں گے انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں جماعت کے رکن صوبائی اسمبلی میر زابد ریکی کو پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی اور اپوزیشن لیڈر کو اعتماد میں لئے بغیر وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ہار پہنانے پران کی رکنیت معطل کردی گئی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میر زابد علی ریکی کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ مرکزی قیادت اور جماعت کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت 2018 اور 2024 کے انتخابات کوپہلے ہی مسترد کرچکی ہے ۔ پی ڈی ایم کی جماعتیں حکومت میں ہیں جبکہ سربراہ پی ڈی ایم اپوزیشن میں ہیںہم نے ہمیشہ ملک کے وقار کو ترجیح دی ہے جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو مولانا فضل الرحمن نے قوم کی طرف سے پارلیمنٹ میں فوج کو یقین دہانی کروائی کہ عوام انکے شانہ بشانہ کھڑے ہیںاور دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے جس کے بعد پاک فوج نے چار گھنٹوں میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا انہوں نے کہا کہ جمعیت علمااسلام عوام کی نمائندہ جماعت ہے جمعیت کے علاوہ کسی سیاسی جماعت نے پاک فوج کی حوصلہ افزائی نہیں کی مودی نے پہلا حملہ دینی مدارس پر کیا بلوچستان میں2002 سے 2013 تک جمعیت علما اسلام کے دور میں جامعات کیڈٹ کالجز دیگر بوائز اینڈ گرلز کالجز ، ہسپتالوں کی تعمیر کے علاوہ سینکڑوں کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر کی گئی اور جمعیت علمااسلام نے فارمولے کی بنیاد پر این ایف سی حاصل کیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی کی پرواہ نہیں ہم ملک اور قوم سمیت صوبے اور اپنے لوگوں کے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔


