بلوچ طلباء تنظیموں کا بولان میڈیکل کالج ایکٹ میں ترمیم و دیگرمطالبا ت کے لیے دھرنے دینے کا اعلان

کوئٹہ؛ بلوچ طلباء تنظیموں نے بولان میڈیکل کالج ایکٹ میں ترمیم سمیت دیگر مطالبات کے حق میں 3ستمبر کو پی اینڈ ٹی چوک کوئٹہ پر دھرنے دینے کا اعلان کردیا ۔ اس بات کا اعلان بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ، بی ایس او پجار اور بی ایس او کے عہدیداروں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ ، نذیربلوچ کریم بلوچ و دیگر نے کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوںنے کہا کہ کالج میں روز اول سے ڈسٹرکٹ و ڈویژنل کوٹہ کی بنیاد پر طلباء داخلہ پاتے رہے جبکہ پرائیویٹ داخلہ منع تھا مگر گزشتہ سال بولان میڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ملتے ہی طلباء کے بیش بہا مسائل کھڑے کردیئے گئے ، طلباء کے ہاسٹلز کی تعداد کم ، سالانہ فیس میں 7گنا تک اضافہ ، سکالرشپس روکنے سمیت داخلہ پالیسی میں ردبدل کرکے سیٹوں کی تقسیم میں صوبائی میرٹ کو ترجیح دی گئی اور سیلف فنانس کے سیٹوں کا اجراء کیا گیا جس کے خلاف گزشتہ سال جون کے مہینے سے طلباء سراپا احتجاج ہیں اور بی ایم سی ایکٹ میں ترمیم کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے ، احتجاج کے طلباء بارہاں طلباء کو گرفتار کیا گیا اور بار بار ایکٹ میں ترمیم کی یقین دہانی کے باوجود آج تک طلباء کے تمام مسائل جوں کے توں ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اب مجبوراً 3ستمبر کو بی ایم سی ایکٹ میںترمیم تک دھرنا دیں گے ، ایکٹ میں ترمیم تک کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، عوامی نمائندوں طلباء و دیگر سے اپیل کی کہ وہ طلباء کے مسائل کے حل کے لئے ان کا ساتھ دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں