31جولائی کوآل پارٹیز کانفرنس ،ریٹائرڈ جرنیل و ججز ، صحافی تاجر، وکلاء سمیت تمام نمائندہ تنظیمیں شریک ہوں گے، اچکزئی

کوئٹہ /اسلام آباد(این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنمائوں علامہ راجہ ناصر عباس ، سلمان اکرم راجہ ودیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اتحاد نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم 31جولائی اور یکم اگست 2025 آل پارٹیز کانفرنس بلائینگے۔ مختلف اداروںکے لوگوں پر مشتمل ایک گول میز کانفرنس جس میں سیاستدان ، (ر)جرنیل ، (ر) ججز ، صحافی ، تاجر، وکلاء ، کسان ، مزدوروں سمیت تمام نمائندہ تنظیمیں سب شریک ہوں گے۔ اور آئین کی بالادستی سمیت مہنگائی ، بدامنی ،آزادی صحافت، عدلیہ کی آزادی ودیگر نکات پر دو دن تک اور ضرورت پڑی تو تین دن تک کانفرنس ہوگی ۔ اور ان سے کہینگے کہ ہمارا ارادہ یہ ہے اور اگر ہم غلط ہے تو ہماری رہنمائی کرے اور ہمارے ساتھ اجتماعی دانش سے فیصلہ کرنے تک بسم اللہ کرکے چل پڑیں اور ملک کو بربادی سے نجات دلائیں۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور یہ ڈوب رہا ہے اور اسے ڈبویا جارہا ہے ۔ جب سیاسی پارٹیاں ، اکابرین خاموش ہوجاتی ہیں تو خود رو تحرکیں چل پڑتی ہے اور پھر انارکی پھیلتی ہے گلی گلی میں لوگ ایک دوسرے کو گولیاں مارتے ہیں۔ باجوڑ سے لیکر وزیرستان تک لاکھوں لوگ نکل پڑے ہیں۔صرف اس بات پر کہ ہماری وہ نعمتیں جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہے اس پر یار لوگوں نے فیصلہ کیا ہے ہم نے یہ فلاں کے ساتھ معاہدہ کردیا ہے اور آپ اس علاقے سے چلے جائیں۔باجوڑ سے لیکر خیبر تک لوگوں کو زور زبرستی بے گھر کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ہم جھولی پھیلا کر کہتے ہیں کہ کمزور ی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ملک کی خاطر ۔ یہ ٹینک ، بندوقیں ، طیارے ہم نے اس لیئے نہیں دی کہ آپ اپنے بچوں کوماریں۔ فوج میں جو بچے لڑنے جاتے ہیں اور جن کو مارا جاتا ہے دونوں ہمارے بچے ہیں۔ ایک ویڈیو آئی پتہ نہیں صحیح ہے یا غلط ہے جس میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے زمین پر بھاگتے ہوئے بچوں کو مارا جارہا ہے اور پھر ہم کہتے ہیںکہ غزہ میں ظلم ہورہا ہے ۔ غزہ میں تو انسانیت کی نسل کشی ہورہی ہے اُس پر سب خاموش ہیںکوئی یہ نہیں کہتا کہ نیتن یاھو کو انٹرنیشنل مجرم کے طور پربین الاقوامی عدالت میں سزا ہونی چاہیے ۔ ہمارا اتحاد کسی کھیل تماشے کے لیے نہیں بلکہ جب تک ملک میں آئین کی بالادستی نہیں ہوگی اور آئین میں تمام اداروں کے جو حدود واضح کیئے گئے ہیںوہ بحال نہیں ہوتے، ملک میں غیر جانبدار الیکشن کمیشن قائم نہ ہو جس پر تمام پارٹیاں متفق ہو، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ نہیں بنتا اور داخلہ وخارجہ پالیسیوں کا مرکز عوام کی منتخب پارلیمنٹ نہیں ہوں گی ہم یہ تحریک نہیں چھوڑینگے۔ اس اتحاد کا مقصد زر و زور کی حکومت کو عوام کی طاقت اور اپنے اجتماعی دانش سے فارغ کرنا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سب کوپتہ ہے کہ 8فروری کے الیکشن کیسے ہوئے ہیں، اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ کے جس پارٹی نے انتخابات جیتے ہیں اس کے لیڈر عمران خان کو دو سال سے جیل میں رکھا گیا ہے اور اپنے گھر کے لوگوں ،وکلاء اور پارٹی کے رہنمائوں کو ملنے نہیں دیا جاتا اور اپنی مرضی کے لوگوں چھوڑاجارہا ہے ۔ دنیامیں کہیں بھی اس کی مثال نہیں ملتی ۔ عمران خان سے کسی کا اختلاف ہوسکتا ہے یا ان سے متعلق رائے کچھ اور ہوسکتی ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ گزشتہ انتخابات میںعمران خان کی پارٹی جیت چکی ہے اور جس انداز میں شہباز شریف اور کمپنی نے کرورڑوں انسانوں کو بندوق کے زور پر ، دہشت زدہ کرکے اس حکومت کو مسلط کی ہے اس کو حکومت کہنا حکومت کی بھی توہین ہے۔ہم صحافیوں /میڈیا کے ذریعے اور پاکستان کے لوگوں اور تمام ادروں کو کہنا چاہتے ہیں کہ ملک بندوق کی طاقت سے نہیں رکھے جاتے ۔لوگوں کو پیٹنے ، بے عزتیاں کرنے ، ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے سے ملک نہیں چلتا ۔ ملک ایک سماجی معاہدے کے تحت چلتے ہیں ۔ یہاں جھوٹ کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ اسلام ہمارا قلعہ ۔ اسلام تو افغانستان ، ایران سے بھی مشترک ہے ۔ یہ ملک ایک سماجی معاہدے کے تحت بنا تھا اور اس کے ذریعے ہی چل سکتا ہے ۔ آئین مقدس اس لیئے ہوتا ہے کہ ایک سماجی معاہدے کے ذریعے فیصلہ ہوتا ہے پھر آئین بنتا ہے ۔ آئین کو روندھا جارہا ہے ۔ 9مئی کے کیسز میں بڑے بڑے لوگوں سے ان کی نشستیں چھین لی جاتی ہے ،لوگوں کونو سے دس سالوں کی سزائیں لیکن دوسری جانب آئین کو روندھنے والوں، آئین کو معطل کرنے والوں ، آئین کو درخوراعتنانہ سمجھنے والوں سے کوئی نہیں پوچھتا اور وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم جی ایچ کیو ہیں۔ وزیر اعظم، وزیراعلیٰ ، وزیر خزانہ ، وزیر داخلہ صاحب آپ کیسے گئے کہ آرمی چیف صاحب بیٹھے ہوئے تھے اور ہم نے تاجروں کے تمام مطالبات مان لیئے ۔ ہمیں عاصم منیر یا کسی اور جنرل کسی سے بھی کوئی دشمنی نہیں لیکن اس طرح کے مطالبات ، معاملات یہ ان کے کام نہیں ۔ ہمارے مشترکہ آئین میں اس کام کے ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے ۔ اس اتحاد کا فیصلہ ہے کہ ہم اس حکومت کے خلاف گلی ، محلے ،کوچے کوچے میں نکلیں گے ۔ گلگت بلتستان سے گوادر تک اور گوادر سے یہاں تک ہم وہ ہنگامہ برپا کرینگے کہ لوگ حیران ہوجائینگے لیکن ہم کسی کو بُرا بلا نہیں کہینگے اور نہ کسی کو ڈندا مارینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں