شدید گرمی، گوادر سمیت مکران ڈویژن میں بجلی کا بدترین بحران، معمولات زندگی متاثر

پسنی (نامہ نگار) گوادر سمیت مکران میں بجلی کا بدترین بحران، معمولاتِ زندگی مفلوج، کاروبار ٹھپ، تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر سمیت پورے مکران ڈویژن کو شدید ترین بجلی بحران کا سامنا ہے، جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی کے کوٹے میں کمی اور نیشنل گرڈ سے متبادل فراہمی میں ناکامی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے،گوادر، تربت، پسنی، جیوانی اور اورماڑہ سمیت مکران کے مختلف علاقوں میں روزانہ 18 سے 20 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے، گرمی کے اس موسم میں بجلی کی عدم دستیابی نے نہ صرف گھریلو زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ تجارتی، سرگرمیاں بھی بری طرح ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی بحران کے حل کے لیے بلند و بانگ دعوے تو کیے گئے، مگر عملی طور پر کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی میں حالیہ ہفتوں میں بار بار کمی کی گئی ہے، جس کے باعث پورے مکران میں بجلی کی فراہمی انتہائی غیر یقینی ہو چکی ہے۔ نیشنل گرڈ سے متصل ہونے کے باوجود علاقے کو مطلوبہ مقدار میں بجلی فراہم نہیں کی جا رہی، دریں اثناءبجلی نہ ہونے کی وجہ سے دکانیں، ورکشاپس، کولڈ اسٹوریج اور دیگر کاروبار بری طرح متاثر ہوچکے ہیں، جس سے مقامی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ دوسری جانب، عوامی اور سیاسی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر مکران کے عوام کو اس بدترین بحران سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ ایران سے بجلی کی درآمد کا معاہدہ از سرِ نو فعال کیا جائے اور نیشنل گرڈ سے بجلی کی ترسیل میں بہتری لائی جائے تاکہ علاقے کو مستقل اور پائیدار بجلی فراہم کی جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں