بلوچستان ہیلتھ کارڈ اور کینسر کے مریضوں کے زندگیوں کو درپیش خطرات

تحریر :یونس بلوچ


گزشتہ دنوں اخبارا ت میں یہ خبر چھپی کہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ کے توسط سے سینار ہسپتال کوئٹہ میں ہیلتھ کارڈ کے تحت فنڈز ریلیز نہیں ہو سکی اور دستیاب فنڈز ختم ہو گئے جس کے باعث کم و بیش تین ہزار کینسر کے مریضوں کی زندگیاں خطرے سے دو چار ہو گئے ہیں،دیکھنے کے حد تک یہ خبر اخبارات میں چھپنے والی معمول کے خبروں میں سے ایک خبر ہے مگر حقیقت میں یہ تین ہزار زندگیوں کا مسئلہ ہے،جب ہیلتھ کارڈ نہ تھی تو مریضوں کو کافی پریشانی و مشکلات کا سامنا ہوتا تھا مگر جب بلوچستان حکومت نے بلوچستان کے مستحق مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے بلوچستان ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا تب سے ان مستحق مریضوں کی علاج کے دروازے کھل گئے اور بڑی تعداد میں دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں کینسر کے مرض میں مبتلاء مریضوں کی علاج شروع ہو گئی یقینا صوبائی حکومت کی جانب سے یہ اقدام انسانیت کی خدمت کے حوالے سے بہترین تھا مگر اب ان کینسر کے مرض میں مبتلا مریض اور ان کے ورثاء شدید پریشانی و مشکلات کا سامنا کررہے ہیں اخباری اطلاعات کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے سینار ہسپتال میں زیر علاج کینسر کے مریضوں کے لئے متعین ہیلتھ کارڈ کے فنذز رک گئے ہیں اور جس کی سبب علاج معالجہ میں شدید رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی،وزیر صحت بخت محمد کاکڑ اس ہم اور ضروری مسئلے کی جانب متوجہ ہوں کیونکہ یہ ایک معمولی نوعیت کا مسئلہ نہیں بلکہ تین ہزار سے زاہد انسانوں کی زندگیوں کا مسئلہ ہے اگر فوری طور پر کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے فنڈز کی دستیابی کو ممکن نہیں بنایا گیا تو نا قابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہے۔ باریک بینی سے اگر ہم صورتحال کا جائزہ لیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ سے علاج کرنے والے کون ہے؟یقینا اس میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ضرور ہونگے مگر سب سے زیادہ وہ لوگ اس سے مستفید ہو رہے ہیں جو زاتی طور پر کینسر سمیت کسی بھی بیماری کا معاشی بد حالی کی وجہ سے مقابلہ نہیں کر سکتے،اور ان ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں حکومت نے عوام الناس کے لئے ہیلتھ کارڈ کی سہولت میسر کی ہے بلوچستان میں کینسر جیسے موزی مرض کے علاج کے لئے سینار ہسپتال میں یہ سہولت میسر کی گئی ہے یا ان ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے زریعے علاج ممکن ہے جن ہسپتالوں پر سینار ہسپتال سے مریضوں کو ریفر کر دیا جاتا ہے،کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج اگر فوری شروع نہیں کیا گیا تو مریض کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور اس کے بڑھ کر خطرناک بات یہ بھی ہے کہ اگر دوران علاج مریض کی علاج رک گئی تو مریض تیزی سے پھیل کر مریض کی زندگی کو خطرے سے دوچار کر دیتی ہے اب چونکہ گزشتہ کم و بیش ایک ماہ سے سینار ہسپتال یا سینار ہسپتال کے توسط سے دوسرے ہسپتالوں میں بیجے گئے مریضوں کے علاج کے لئے فنڈز ریلز نہیں ہو سکے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی علاج کا سلسلہ رکھتا جا رہا ہے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی،وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ،چیف سیکرٹری بلوچستان اور سیکرٹری ہیلتھ بلوچستان سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سنگین نوعیت کے مسئلے کی جانب متوجہ ہوں تین ہزار زندگیوں کو جو خطرآت درپیش ہے ان خطرآت کو ختم کرنے کے لئے سینار ہسپتال کوئٹہ کے ہیلتھ کارڈ کے زریعے علاج کو سہولت کو برقرار رکھنے کے لئے فنڈز کی ریلز کو فوری طور پر ممکن بنائیں تھا کہ کینسر کے مریض اور ان کے ورثاء سکھ کا سانس لیں سکیں

اپنا تبصرہ بھیجیں