گریٹر اسرائیل وژن کسی صورت قبول نہیں، منصوبہ خطے کیلئے خطرہ ہے،سعودی عرب/ پاکستان
اسرائیل غرہ میں یکطرفہ کارراوئیاں کر رہا ہے، غزہ میں اسرائیلی حملے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں گریٹر اسرائیل وڑن کسی صورت قبول نہیں، سعودی وزیر خارجہ
جدہ میں غزہ کے بحران پر آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس ہوا۔اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اسرائیل غرہ میں یکطرفہ کارراوئیاں کر رہا ہے، غزہ میں اسرائیلی حملے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔سعودی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گریٹر اسرائیل وڑن کسی صورت قبول نہیں۔واضح رہے کہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل کا گریٹراسرائیل منصوبے خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے اور پاکستان گریٹر اسرائیل منصوبے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او ا?ئی سی) وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ غزہ میں اسرائیلی مظالم بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اسرائیل کے ہاتھوں60 ہزارسےزائد فلسطینی شہید ہوچکےہیں۔انہوں نے کہا کہ او ا?ئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے پر ترکیے اور ایران کے شکرگزار ہیں، فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دی جارہی ہے، اسپتالوں ،اسکولوں، پناہ گزین کیمپوں پر حملے عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ فلسطین میں قحط کی صورتحال ہے، فوری اقدامات ناگزیر ہیں، عالمی برادری غزہ میں مستقل اور غیرمشروط جنگ بندی کیلئے اقدامات کرے۔اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ اسرائیل کا گریٹراسرائیل منصوبے خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے، پاکستان گریٹر اسرائیل منصوبے کو سختی سے مسترد کرتا ہے، پاکستان نے31 عرب واسلامی ممالک کےمشترکہ بیان کی حمایت کی اوردو ریاستی حل ہی فلسطین میں پائیدار امن کاواحد راستہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے7 فوری اقدامات تجویزکیےجن میں مستقل جنگ بندی سرفہرست ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کواسرائیل کےخلاف سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھاکہ پاکستان بطورغیرمستقل رکن فلسطین کے حق خودارادیت کیلئے عالمی رائے عامہ کومتحرک کرتا رہےگا۔


