تحریک انصاف حکومت کے دو سال مکمل، کارکردگی رپورٹ جاری کردی
اسلام آباد: وفاقی حکومت نےآج اپنی دو سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کی جس میں داخلی اور خارجی محاذوں پر اپنی کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر، وزیر صنعت حماد اظہر اورغربت کے بارے میں معاون خصوصی ثانیہ نشتر سمیت کابینہ ارکان نے آج اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران حکومت کی دوسالہ کارکردگی پیش کی۔
وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے پہلے دو سال مشکل تھے اور اب اچھے دن شروع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد پاکستان کو ایک فلاحی ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خارجی محاذ پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری گزشتہ دو برسوں کی موثر پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج کشمیر کا تنازعہ عالمی سطح پر توجہ کا محور بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک سال میں تین بار اس دیرینہ تنازع پر بحث کی گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور دوسرے عالمی فورموں پر اپنے خطاب میں تنازع کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اقتصادی محاذ پر موجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والے مسائل اورا ن پر قابو پانے کے لئے حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری تاریخی کارکردگی ہےکہ حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب ڈالر سے کم ہوکر تین ارب ڈالر تک آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے پانچ ہزار ارب روپے کے قرضے بھی واپس کئے۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے اپنے اخراجات بھی کم کئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مرکزی بینک سے کوئی قرض نہیں لیا گیا اور نہ ہی اس عرصے کے دوران ضمنی گرانٹس دی گئیں۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت نے کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک ہزار 240 ارب روپے کا بڑا پیکیج دیا۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا جبکہ خام مال کی درآمد پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کردیے گئے یا ان میں نمایاں کمی کی گئی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانوں کے درمیان مذاکرات شروع ہونے والے ہیں اور پاکستان نے اس کےلئے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے اقتصادی شعبے میں پیش قدمی کےلئے معاشی سفارتکاری کی سوچ دی۔
انہوں نے کہا کہ اس عرصہ کے دوران ہم نے اپنے دیرینہ دوستوں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بھی بنایا جبکہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یورپی یونین کے ساتھ تزویراتی روابط منصوبے پر بھی دستخط کئے ہیں اور معاشی سفارتکاری کے طور پر ہم نے افریقہ سے بھی روابط قائم کئے ہیں۔
صنعتوں اور پیداوار کے وزیر حماد اظہر نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے باوجود لوگوں کواشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنانے کے لئے رسد کے تمام ذرائع کھلے رکھےگئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعمیراتی صنعت کو مراعاتی پیکیج دیا جس کےنتیجے میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آئی۔
حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے برقی گاڑیوں اور موبائل فون کی تیاری کے حوالے سے دو نئی پالیسیوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے لائحہ عمل پر بھی نمایاں پیشرفت کی ہے۔
منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان کا شمار ان چند ملکوں میں ہو رہا ہے جنہوں نے کوروناوائرس کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کواتفاق رائے سے بروقت کئے گئے فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا۔
غربت کے خاتمے کے بارے میں معاون خصوصی ثانیہ نشتر نے احساس پروگرام اور اس سے منسلک دیگر مختلف پروگراموں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ ماہ پہلے شروع کیاگیا احساس پروگرام سماجی تحفظ کے حوالے سے تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔


