آل پارٹیز کی کال پر 8 ستمبر کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاﺅن اور پہیہ جام، نجی تعلیمی ادارے بند رہیں گے
کوئٹہ (آن لائن) ستمبر کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسے میں خودکش حملے کے خلاف ٹرانسپورٹروں کی تمام تنظیموں نے بلوچستان کی آل پارٹیز کی اپیل پر 8 ستمبر کو شٹر ڈاﺅن اور پہیہ جام ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد 8 ستمبر کو صوبے بھر میں کوئی پہیہ نہیں چلے گا. معروف ٹرانسپورٹروں اور ٹرانسپورٹر تنظیموں ، آل بلوچستان ٹرانسپورٹر ایکشن کمیٹی، آل بلوچستان آئل ٹینکر یونین ، آل پاکستان مزدا ٹرک ٹرانسپورٹ ایسوسیشن ، پنجاب خیبر پختونخوا بس یونین ، آل بلوچستان کوئٹہ کراچی بس یونین ، آل کوئٹہ تفتان رخشان ڈویژن بس یونین کونسل اور دیگر تنظیموں کے رہنماﺅں معروف ٹرانسپورٹرز حاجی میر حکمت لہڑی ،حاجی میر دولت لہڑی ، حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی ، وحید خان کاکڑ ، لالا میر سعید لہڑی، ملک شاہ جمالدینی، میر نواب مینگل ، ظاہر شاہ کاکڑ، وزیر خان ، حاجی میر اکبر لہڑی، نور جان شاہوانی، میر داد کرد، سید ظاہر شاہ ، سردار صابر ریکی، حاجی عبدالمالک محمد حسنی، میر سنجر خان لہڑی، حاجی اللہ بخش بادینی اور دیگر نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ پہیہ جام ہڑتال کی حمایت کا فیصلہ سانحہ شاہوانی اسٹیڈیم میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ اور صوبے میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز بلوچستان کی آل پارٹیز کی پرامن احتجاجی اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے واضح کیا ہے کہ 8 ستمبر کو صوبے بھر میں کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی اور پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے گی۔ علاوہ ازیں آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کے صوبائی صدر نذر بڑیچ، جنرل سیکرٹری حضرت علی کوثر، ملک رشید کاکڑ، حاجی سلیم ناصر، جعفر خان کاکڑ، جیلانی البدری اور قاری زیب الرحمن نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آل پارٹیز کی جانب سے 8 ستمبر کو پہیہ جام اور شٹر ڈاﺅن ہڑتال کے اعلان کے پیش نظر طلبہ و اساتذہ کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر کے تمام نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے صوبے کے تمام نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔


