حکومتی دو سال دراصل تباہی کے دو سال ثابت ہوئے،اسفندیارولی خان

پشاورۛعوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے پی ٹی آئی حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی دو سال دراصل تباہی کے دو سال ہیں کیونکہ ان دو سالوں میں ملک کو تباہی کے دہانے کھڑا کردیا گیا ہے، ملکی معیشت بدترین صورتحال اختیار کرچکی ہے جبکہ داخلہ و خارجہ پالیسی بھی مکمل طور پر ناکام نظر آرہی ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری میں بیان میں اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا کہ دو سال کے دوران جمہوریت کے خلاف سازشوں میں مزید تیزی آئی اور اٹھاروہویں آئینی ترمیم پر بھی کئی حملے ہوئے۔ 50لاکھ گھر دینے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ چکے ہیں بلکہ غربت نے لاکھوں افراد کو بے گھر کردیا ہے۔ہم سوال پوچھتے ہیں کہ ایک کروڑ نوکریاںکہاں ہیں؟ لاکھوں لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے، دو وقت کی روٹی ملنا مشکل ہوچکی ہے۔ موجودہ حکومت کا بڑا نعرہ کرپشن کے خلاف کارروائیاں تھیں جبکہ اپوزیشن کو کرپٹ کرپٹ کہنے والے خود سب سے بڑے کرپٹ نکلے کیونکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق عمران نیازی کے دور حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہوا۔ اے این پی سربراہ نے کہا کہ دو سال کے دوران کوئی میگا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا، صوبوں کو انکے حقوق نہیں دیے گئے۔ خیبرپختونخوا میں ایک ہی منصوبہ بی آر ٹی گذشتہ صوبائی دور حکومت میں شروع کیا گیا لیکن اس میں بھی کرپشن کی انتہا کی گئی اور کسی کو تحقیقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔پارلیمنٹ کو بے توقیر کردیا گیا، برطانیہ کی مثالیں دینے والے عمران خان کہیں موجود ہی نہیں۔ مہنگائی بارے اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ ادارہ شماریات کے مطابق 2 سال میں آٹے کی فی کلو اوسط قیمت میں 12 روپے اضافہ ہوا۔2 سال میں چینی کی اوسط قیمت فی کلو 40 روپے بڑھ گئی، یہ پیسہ کن کی جیبوں میں گیا؟شوگرکمیشن، آٹا چوری، ماسک چوری، دوائیاں چوری، کیا کیا چوری نہیں کی گئی لیکن سزا کسی کو نہ مل سکی۔ جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور دیگر وزرائ￿ کے خلاف جو چارج شیٹ بنائی گئی تھی ان پر کتنا عمل ہوسکا؟ اس وقت مہنگائی پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے لیکن حکومت دو سالہ کامیابی پر شادیانے بجارہی ہے۔ اسفندیارولی خان نے مزید کہا کہ صوبوں میں بے جا مداخلت نے صوبائی معاملات بھی تباہ کردیے ہیں، یہاں تک کہ عمران خان نے خود ببانگ دہل صوبائی حقوق نہ دینے کا اعلان کیا لیکن خیبرپختونخوا کے بجلی کا خالص منافع اور دیگر بقایا جات ابھی تک نہیں دیے گئے۔ یہاں پر بھی ایسے افراد کو بٹھایا گیا ہے جن کی زبان مشترکہ مفادات کونسل میں اپنے حقوق کیلئے نہیں کھلتی۔ اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک دینے کے دعویداروں نے کسی بھی صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے۔کرپشن کی انکوائریوں پر سٹے آرڈرز لئے گئے اور عدالتی حکم امتناعی کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔گذشتہ دو سال میں صرف دوستوں اور ان افراد کو نوازا گیا جو عمران خان کو اقتدار میں لائے ہیں۔اے اینپی سربراہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مطابق نیب ایک آزاد اور خودمختار ادارہ ہے لیکن وزرائ￿ انکی کارروائیوں کو بھی اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے، حقیقت یہ ہے کہ نیب کو ان دو سالوں میں سیاسی انتقام کیلئے استعمال کیا گیا اور اب بھی یہ روش جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں